ایران جوہری معاہدہ

جوہری معاہدے کی بحالی کی گیند امریکا کے کورٹ میں ہے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی وزارت خارجہ نے یورپی مذاکرات کار کے دورہ ایران کے بعد بڑھتی ہوئی امیدوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015ء کے جوہری معاہدے کی بحالی کے لئے امریکا ذمہ دار ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے ہفتہ وار نیوز کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ "جوہری معاہدے کی بحالی کی گیند اب امریکا کے کورٹ میں ہے۔"

ایران کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار علی شامخانی نے یورپی یونین کے مذاکرات کار جوزپ بوریل کے ساتھ میٹنگ کے دوران کہا کہ مغربی طاقتوں کے 'غیر قانونی رویے' قائم رہنے تک تہران اپنے جوہری پروگرام کو جاری رکھے گا۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی 'ارنا' کے مطابق شامخانی کا کہنا تھا کہ " امریکا کے یکطرفہ فیصلوں اور یورپ کی ان پر عدم دلچسپی کے ردعمل میں ایران کے جوہری شعبے میں حالیہ پیش رفت منطق اور قانون کے دائرے میں پوری اترتی ہے اور اسے اس وقت تک روکا نہیں جائے گا جب تک مغرب اپنی غیر قانونی سرگرمیاں تبدیل نہیں کرتا۔"

قطر کی وساطت سے بالواسطہ مذاکرات

ایران کی جوہری مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن محمد میراندی کے مطابق قطر کی وساطت سے امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ جوہری معاہدے کی بحالی کے لئے مذاکرات کئے جائیں گے۔

ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا "ایران نے قطر نے انتخاب اس لئے کیا ہے کیونکہ قطر دوست ملک ہے۔"

امریکا اور ایران گذشتہ سال اپریل سے ویانا میں جاری بالواسطہ مذاکرات میں مارچ میں جوہری معاہدے کی بحالی کے قریب پہنچ چکے تھے لیکن پھر دونوں ملکوں کی جانب بعض شرائط عاید کیے جانے کے بعد یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے تھے۔

ایران اس بات پر مصر تھا کہ اس کی سپاہِ پاسداران انقلاب کوامریکا کی غیرملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالا جائے اور اس پر عاید سخت پابندیوں کو ختم کرے لیکن بائیڈن انتظامیہ اس کے اول الذکر مطالبے کو تسلیم کرنے کو تیارنہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں