خامنہ ای صاحب! دشمن ہماری صفوں میں موجود ہے:فائزہ ہاشمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کی صاحبزادی فائزہ ہاشمی رفسنجانی نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو ان کی حالیہ تقریر کے پس منظر میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہے دشمن ہماری صفوں کے اندر موجود ہیں۔ خامنہ ای نے ایران کے دشمنوں کی بات کی تھی جس پر فائزہ ہاشمی رفسنجانی نے کہا کہ دشمن کو باہر تلاش کرنے کے بجائے اپنی صفوں میں دیکھا جائے۔ دشمن ہمارے اندر موجود ہے سرحدوں سے باہرنہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کی سابق رکن فائزہ رفسنجانی نے حکومتی اداروں اور انتظامی اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے موجودہ صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا: "ہمارا دشمن یہاں ہے"۔ انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ وقتاً فوقتاً کہتے ہیں کہ دشمن ملک سے باہر بیٹھا ہے۔ امریکا دشمن ہے مگر آپ جھوٹ بولتے ہیں کہ امریکا دشمن ہے۔"

خامنہ ای
خامنہ ای

اپنی ویڈیو گفتگو کے آغاز میں فائزہ رفسنجانی نے ایران میں بڑھتے معاشی مسائل کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی سطح پر بدنظمی اور بد عنوانی عام ہے۔ وسیع پیمانے پر غربت کے باوجود سرمایہ ملک سے باہر جا رہا ہے۔ 18 ارب ڈالرملک سے باہر چلے گئے۔

فائزہ رفسنجانی کے مطابق ملک میں غبن کے کم از کم 5000 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور ایران میں غبن کے حجم میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سماجی مسائل کے بارے میں فائزہ ہاشمی نے اشارہ کیا کہ ایران میں کچی آبادیوں میں رہنے والوں کی تعداد بڑھ کر 13 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ اس طرح یہ ملک کی کل آبادی کا چھٹا حصہ بن گئی ہے۔

فائزہ رفسنجانی کے مطابق تقریباً 80 فیصد ایرانی اس وقت معاشی مسائل کی وجہ سے مناسب خوراک، جیسے پھل اور سبزیاں خریدنے سے قاصر ہیں۔

ایرانی خاتون سیاسی رہ نما کا دعویٰ ہے کہ 40 ملین ایرانیوں کوحکومتی مدد اور امدادی اداروں کی فوری مدد کی ضرورت ہے۔

انہوں نے ملک سےایلیٹ کلاس، ماہرین اور مختلف پیشوں سے وابستہ افراد کی بڑے پیمانے پر ہجرت کو ایک اور سماجی مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ سالانہ 150,000 سے 180,000 پیشہ ور افراد ملک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔

ہفتے کے روز اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں فائزہ رفسنجانی نے حالیہ برسوں میں ایران میں درجنوں کھلاڑیوں اور قومی ہیروز کی ہجرت اور دوسرے ملکوں میں پناہ لینےکا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں کم از کم 61 کھلاڑیوں اور قومی چیمپئنوں نے دوسرے ممالک میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں