اسرائیلی پارلیمان کی تحلیل اور نئے انتخابات کرانے کے بل کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی پارلیمنٹ (الکنیست) کی تحلیل سے متعلق ایک مسودۂ قانون متفقہ طورپر منظورکر لیا گیا ہے۔اس کے نتیجے میں چار سال سے بھی کم عرصے میں صہیونی ریاست میں پانچویں پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

وزیراعظم نفتالی بینیٹ کی قیادت میں سبکدوش ہونے والے حکمران اتحاد اورسابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی قیادت میں حزب اختلاف کے ارکان گذشتہ ہفتے سے اسرائیلی پارلیمان (الکنیست) کی تحلیل کے بل پرجھگڑ رہے تھے۔

حکمران اتحادکا کہنا تھاکہ وہ گذشتہ ہفتے وزیراعظم بینیٹ کے اعلان کے بعد اس قانون کی فوری منظوری چاہتا ہے کیونکہ اس کا ایک سال پرانا، نظریاتی طور پر منقسم آٹھ جماعتی اتحاد اب قابل عمل نہیں رہا ہے۔

لیکن نیتن یاہو اور ان کے اتحادی موجودہ پارلیمان کے اندر میں نئی حکومت تشکیل دینے کے لیے بات چیت کر رہے تھے جس سے نئے انتخابات کا امکان ختم ہوجائے گا۔وہ نیتن یاہو کو ایک مرتبہ پھر وزیراعظم بنانا چاہتے تھے۔

تاہم فریقین نے آخرکار پیر کی شب ایک بل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا جسے بدھ کے آخرتک قانون کے طور پر حتمی شکل دے دی جائے گی۔اپوزیشن کی پارلیمان کی تحلیل پر آمادگی سے پتاچلتا ہے کہ نیتن یاہو نے نئی حکومت کی تشکیل کی کوششیں اب ترک کردی ہیں۔

منگل کو علی الصباح الکنیست کی ہاؤس کمیٹی نے اس بل کی منظوری دے دی۔اس کے بعد اسے اس کو پہلی خواندگی کے لیے ایوان میں پیش کیا گیا اور اس نے 53-0 سے اس کو منظور کرلیا۔

بل کے مطابق پارلیمنٹ تحلیل ہو جائے گی اور نئے انتخابات 25 اکتوبر یا یکم نومبر کو ہوں گے۔البتہ متحارب سیاسی دھڑوں کے درمیان مزید مذاکرات کے بعد انتخابات کی حتمی تاریخ مقرر کی جائے گی۔

مجوزہ بل کو مزید دو خواندگیوں کے بعد پارلیمان میں اتفاق رائے سے منظورکیا جانا چاہیے۔اس کی حتمی منظوری حاصل کرنے کے بعد آدھی رات کونفتالی بینیٹ اقتدار میں حصہ داری کے معاہدے کے مطابق وزیرخارجہ یائر لاپیڈ کو اقتدار سونپ دیں گے۔اس معاہدے پرانھوں نے گذشتہ سال بے نتیجہ انتخابات کے بعد اتفاق کیا تھا۔واضح رہے کہ بینیٹ کی قیادت میں اتحاد شروع سے ہی اپنی نظریاتی تقسیم کے پیش نظر خطرے میں تھا۔

وزیراعظم کے مطابق آخری رکاوٹ ایک ایسے اقدام کی تجدید میں ناکامی تھی جو مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کو اسرائیلی قانون کے تحت زندگی گزارنے کو یقینی بناتا ہے۔یہودی آبادکار لابی گروپ کے سابق سربراہ بینیٹ نے کہا کہ 30 جون کو اس اقدام کی مدت ختم ہونے سے سلامتی کے خطرات اور’’آئینی انتشار‘‘پیدا ہوسکتا ہے۔

پارلیمان کی اپنی مدت ختم ہونے کی تاریخ سے پہلے تحلیل کا یہ مطلب ہے کہ مغربی کنارے کا نام نہاد قانون اس وقت تک نافذالعمل رہے گا جب تک اسرائیل کی نئی حکومت اقتدار نہیں سنبھال لیتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں