حزب اللہ پر لبنان میں عالمی امن فوج کے ڈیٹا پر سائبر حملے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل نے بدھ کے روزایرانی حمایت یافتہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ پر ایک سائبر حملہ کرنے کا الزام لگایا جس کا مقصد لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر اقوام متحدہ کے امن مشن (UNIFIL) کو متاثر کرنا تھا۔ اسرائیل نے ہیکرز کو سخت جواب دینے کی دھمکی دی تھی۔

"مواد کی چوری"

اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے بدھ کے روز کہا کہ ایرانی سیکیورٹی اداروں نے حزب اللہ کے تعاون سے (حال ہی میں) ایک سائبر آپریشن کیا، جس کا مقصد حزب اللہ کے فائدے کے لیے UNIFIL سےمتعلق ڈیٹا چوری کرنا تھا۔

انہوں نے تل ابیب یونیورسٹی میں ایک الیکٹرانک کانفرنس سے خطاب میں مزید کہا کہ یہ لبنان کے استحکام پر ایران اور حزب اللہ کا ایک اور براہ راست حملہ ہے۔

پاسداران انقلاب کا ایک یونٹ

انہوں نے انکشاف کیا کہ "ایرانی پاسداران انقلاب کا ایک سائبر یونٹ (شہید کاوہ) نے برطانیہ، امریکا، فرانس اور اسرائیل سمیت کئی مغربی ممالک میں بحری جہازوں، فیول اسٹیشنوں اور صنعتی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کے لیے تحقیق کی تھی۔"

اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ اسرائیل دشمن ہیکرز کے خلاف جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ وہ کون ہیں؟ ہم کس کو نشانہ بناتے ہیں؟۔

اسرائیل کا یہ الزام ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

یونیفیل کا ردعمل

دوسری جانب اقوام متحدہ کی امن فوج ’UNIFIL‘ نے واضح کیا کہ اس نے پہلی بار اس قسم کے حملوں کے بارے میں سنا ہے۔

UNIFIL کے انفارمیشن آفس نے رائیٹرز کو بتایا امن مشن اور اقوام متحدہ سائبر سیکیورٹی کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور ہمارے ڈیٹا کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہم نے آج اسرائیلی وزیر دفاع کابیان سنا ہے اور میڈیا رپورٹس بھی دیکھی ہیں مگرسائبر حملے کے حوالے سے کوئی براہ راست اطلاع نہیں ملی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں