سیکرٹری جنرل اوپیک نے اوپیک پلس معاہدے کے لیے روس کو اہم قرار دیدیا

روس یوکرین معاملات شروع ہونے سے پہلے تیل کی قیمتیں بڑھ چکی تھیِ: ھیثم الغیص

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اوپیک کے نئے سیکرٹری جنرل ھیثم الغیص نے اوپیک پلس میں روس کی رکنیت کو اوپیک پلس کے معاہدے کی نمایاں کامیابی کے لیے اہم قرار دیا ہے۔ اس امر کا اظہار انہوں نے کویتی اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا ہے۔ جسے اخبار نے اتوار کے روز شائع کیا ہے ا

ھیثم الغیص نے روس کے بارے میں مزید کہا کہ اوپیک اور روس کے درمیان مقابلے والی بات نہیں ہے۔ روس توانائی کے حوالے سے عالمی نقشے میں ایک بڑے کھلاڑی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے روس توانائی کے حوالے سے دنیا کا اہم اور انتہائی موثر کھلاڑی بھی قرار دیا ۔

واضح رہے 'اوپیک پلس' تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت اتحاد میں منسلک ملکوں کا نام ہے۔ ان 'اوپیک پلس' ملکوں کی قیادت روس کے پاس ہے۔

اوپیک کے نئے سیکرٹری جنرل ھیثم الغیص اس سے قبل کویت کے اوپیک کے لیے گورنر رہ چکے ہیں۔ اب انہیں اوپیک کا سیکرٹری جنرل بنایا گیا ہے۔ سیکرٹری جنرل بننے کے بعد تین اگست کو وہ 'اوپیک پلس' کی پہلی میٹنگ کی صدارت کریں گے۔

تین اگست کو ہونے والے اس اوپیک پلس اجلاس کی اہم بات یہ ہے کہ اوپیک ستمبر تک کے لیے اس کے باوجود تیل کی پیداوار میں تبدیلی نہ کرنے پر غور کرے گا کہ امریکہ نے تیل کی سپلائی بڑھانے کی درخواست کر رکھی ہے۔

اگرچہ اوپیک سے متعلق ذرائع اس امر کا اظہار بھی کر چکے ہیں کہ تیل کی پیداوار میں معمولی اضافہ کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ نے ھیثم الغیص نے ایک سوال کے جواب میں کہا ' میرے خیال میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی وجہ محض روس اور یوکرین کے درمیان ہونے والی جنگی پیش رفت نہیں ہے۔ '

سیکرٹری جنرل کے مطابق' تمام تر اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ بتدریج ہوا ہے اور مجموعی طور پر ہوا۔ یہ اضافہ روس اور یوکرین کے درمیان شروع ہونے والے معاملات سے پہلے ہی ہو گیا تھا۔ اضافے کی وجہ مارکیٹ میں موجود تصورات بنے۔ '

انہوں نے کہا ' منڈیوں میں اضافی تیل پیدا کرنے کی صلاحیت کے کمزور ہونے کا بھی مسئلہ ہے۔جو چند ملکوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ '

سیکرٹری جنرل اوپیک نے یہ بھی کہا ' تیل کی قیمتیں 2008 سے لے کر 2022 تک اپنی بلند ترین سطح پر ہیں۔ حتی ماہ مارچ میں جب امریکہ اور یورپی ممالک نے روس کے خلاف پابندیاں عائد کیں تو تیل کی قیمتیں 139 ڈالر فی بیرل کوچھو گئی تھیں۔ '
ان کا کہنا تھا ' تیل کی ان قیمتوں میں قدرے سکون آیا اور 108 ڈالر فی بیرل پر آگئیں۔ اس کے باوجود افراط زر میں بلندی آئی، شرح سود میں اضافہ کیا گیا اور عالمی سطح پر کساد بازاری کے خوف کی فضا ہے۔ جو تیل کی طلب کو متاثر کرتی ہے۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں