.

سعودی عرب کے ’ابن بطوطہ‘ ’دنیا کے کنارے‘پر جاپہنچے

"دنیا کے کنارے" پر ایک سعودی ٹریول بلاگر کے دلکش لمحات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دُنیا بھرمیں گھومنے والے سعودی عرب ٹریول بلاگرعبدالعزیز حمد الدمخ نے ایک ویڈیو کلپ میں "دنیا کا کنارہ" کے نام سے مشہور سائٹ کے دلکش نظارے پیش کیے ہیں۔ یہ ویڈیو نوجوانوں کے اس علاقے کے وزٹ کے دوران بنائی گئی۔

الدمخ نے اپنے دوست عبداللہ الغدیر کے ہمراہ اس علاقے کا وزٹ کیا جہاں فوٹو گرافرعبدالغامدی دنیا کے کونے کے طور پرمشہور جگہ کی خوبصورتی کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا۔

سعودی عرب میں واقع "دنیا کا کنارہ" ایک ایسی سائٹ ہے جہاں سیاحوں کا رش لگا رہتا ہے۔ اس جگہ کو یہ نام ایک برطانوی صحافی نے اس علاقے کا دورہ کرنے اور اس کی تعریف کرنے کے بعد دیا۔ یہاں پہلی بار جانے سے ایسے محسوس ہوتا جیسے انسان زمین کے کنارے پرآن کھڑا ہوا ہے۔ اس خطے میں پھیلے فوسلز ، گھونگوں اور مرجان کی چٹانوں سےاندازہ ہوتا ہے کہ یہ 55 ملین سال پہلے یہ زمینیں ایک سمندر تھیں جو اس کے کم ہونے سے پہلے ہی اس خطے کو سیلاب میں لے آئی تھیں۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں الدمخ نے کہا کہ "دنیا کا کنارہ پتھریلی پہاڑیوں پر مشتمل ہے جو لاکھوں سال میں بنی ایک تلچھٹ والی چٹان پر ہے۔ یہ ایک قدیم وادی کے مغرب میں جبال طویق پہاڑی سلسلے کا حصہ ہے۔ یہ جگہ 800 کلومیٹر سے زیادہ رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ تقریباً سعودی عرب کے مرکز میں سطح زمین سے اوسطاً 970 میٹر کی اونچائی پر ہے اور اس کا بلند ترین مقام 1,200 میٹربلند ہے۔

انہوں نے کہا کہ دُنیا کا کنارہ غروب آفتاب کے وقت دلکش نظارے کی خصوصیت رکھتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ریاض کے قریب واقع ہے جہاں سعودی دارالحکومت سے قریب ترین مقام ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے۔

وہاں آپ کئی قسم کی سرگرمیوں کی مشق کر سکتے ہیں جن میں اسٹار گیزنگ، کیمپنگ، باربی کیو، نائٹ ٹیننگ سیشن، پیدل سفر، کچھ غاروں کی دریافت، رسی سے نیچے جانا اور دیگر سرگرمیاں شامل ہیں۔

’دنیا کے کنارے‘ پر کھڑے ہونے کے لمحات کے دوران اپنے احساس کے بارے میں الدمخ نے کہا کہ یہ ایک ناقابل بیان احساس ہے جب آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ ایک وسیع کائنات میں ایک نقطہ ہیں۔ ایک ایسا احساس ہے کہ آپ کنارے پر پہنچ گئے ہیں اور یہاں دُنیا کانقطہ اختتام ہے، جہاں کچھ بھی اس مقام سے باہر نہیں ہے۔

جہاں تک دُنیا کے کنارے پر ان کی تصویر پر ردعمل کا تعلق ہے انہوں نے کہا کہ ان میں سے اکثر نے اس جگہ کی خوبصورتی اور وقار پر حیرت اور تعریف کا اظہار کیا۔ بعض لوگوں نے الدمخ کے اس مقام پر جانے کو لاپرواہی اور پاگل پن کہا۔

ایک اور تناظر میں دمخ نے انکشاف کیا کہ وہ اس وقت یورپ میں مونٹ بلینک کے ارد گرد مہم جوئی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ بعد میں جنوبی امریکا اور انٹارکٹیکا کے کچھ ممالک کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں بچپن سے ہی سفر کا شوقین رہا ہوں۔ میں فطرتاً ایک متجسس انسان ہوں، مجھے اپنی وسیع دنیا کی متنوع ثقافتوں اور تاریخ کے بارے میں پڑھنا اور جاننا پسند ہے۔ اسکول میں مجھے جغرافیہ اور تاریخ پسند تھی۔ نقشے پر ممالک کی شناخت کرنے اور ممالک اور دارالحکومتوں کے ناموں کو جوڑنے کا جنون تھا۔ مجھے اٹلس آف ورلڈ کتاب پسند تھی۔ مجھے تاریخ، ثقافتوں اور لوگوں سے متعلق دستاویزی فلمیں دیکھنا پسند ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے تقریباً 45 ممالک کا دورہ کیا ہے، جن میں زیادہ تر اکیلے "بیک پیکنگ" ہیں۔ میں قطب شمالی گیا ہوں اور تقریباً ہر رات شمالی لائٹس کی روشنیاں آسمان کو روشن کرتی دیکھ چکا ہوں۔ میں کئی بار سفاری پر گیا ہوں۔ افریقہ میں مسائی قبائل، شمالی ناروے کے سامی لوگ اوردنیا کے دوسرے خطوں کو دیکھا ہے۔

الدمخ نے مزید کہا کہ پہاڑوں اور چوٹیوں پر چڑھنے کی مہم جوئی اور چیلنج میری زندگی کا حصہ نہیں تھے کیونکہ یہ ایک ایسا کلچر تھا جو میرے گردونواح میں عام نہیں تھا، لیکن 2015 میں میں نے معمول سے ہٹ کر آتش فشاں پہاڑ پر چڑھنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے کئی پہاڑوں کی چوٹیاں سر کی ہیں۔ جنوبی کوریا میں ماؤنٹ ہلاسان، مراکش میں ماؤنٹ توبقال جو 4167 میٹر کی بلندی کے ساتھ عرب کی بلند ترین چوٹی ہے۔تنزانیہ میں ماؤنٹ کلیمنجارو، افریقہ کی بلند ترین چوٹی جس کی اونچائی 5895 میٹرہےاور ہمالیہ میں ایورسٹ کا مرکزی کیمپ جس کی اونچائی 5364 میٹر ہے کو سر کرنے کے ساتھ سعودی عرب کے پہاڑ اور عسیر، الباحہ، جازان اور ریاض میں پیدل سفر بھی کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں