.

ڈاکٹروں نے دوسالہ بچے کے دماغ سے رسولی نکال دی

ہسپتال میں کامیاب آپریشن چار گھنٹے تک جاری رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی ڈاکٹروں نے ایک دوسالہ بچے کے دماغ میں بار بار انفیکشن ہوجانے کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے کامیاب آپرشن کیاہے۔ بتایا گیا ہے کی اس انتہائی کم عمر بچے کے دماغ میں رسولی تھی۔

مکہ میٹرنٹی اور چلڈرن پسپتال میں ماہر سرجنز نے چار گھنٹوں پر محیط اس سرجری کے دوران بچے کی زندگی بچانے کی کامیاب کوشش کی۔ معلوم ہوا ہے کہ بچے کے دماغ میں رسولی تھی جس کی وجہ سے انفیکشن پیدا ہو رہا تھا۔

اس بارے میں ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بچے کی ماں کے دیکھنے میں آتا تھا کہ بچے اپنے سر کو پکڑتا اور چلانے لگتا تھا ، یہ سلسلہ کافی دیر جاری رہتا۔ معائنے کے بعد ڈاکٹر اس نتیجے پر پہنچے کہ اس کے سر میں انفیکشن ہو جو بہتا ہے تو بچے کو ناقابل برداشت تکلیف سے گذرنا پڑتا ہے۔

اس سے بچہ بے ہوش ہوجاتا ہے اور بے حس و حرکت ہو جاتا ہے۔ نیز یہ رسولی دوسری قریبی پٹھوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ نتیجتا بچہ بے ہوش ہوجاتا ہے اور ہلنے جلنے کے قابل بھی نہیں رہتا۔

جب بچے کو ہسپتال منتقل کیا گیا تو ایم آر آئی کرانے سے معلوم ہوا کہ اس کے سر میں موجود رسولی بڑی ہو گئی ہے۔ اس لیے اگر اس کا فوری تدارک نہ کیا گیا تو یہ مسئلہ خترناک ہو سکتا ہے۔

اس لیے سرجنز نے چار گھنٹوں پر پھیلے ایک طویل آپیرشن کے ذریعے رسولی کو ختم کیا ۔ بتایا گیا ہے کہ آپریشن کامیاب رہا ہے اور بچے کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق اس طرح کی رسولیاں کا مسئلہ ہو جاتا ہے جنہیں دماغی رسولیاں کہا جاتا ہے ۔ یہ بالعموم پیدائشی طور پر موجود زخم کے نتیجے میں بنتی ہیں۔ انہیں نکالنے کے لیے کافی حساس نوعیت کی سرجری کی ضرورت پڑتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں