.
ایران جوہری معاہدہ

ایرانی جوہری معاہدہ ۔ ایرانی نمائندہ مذاکرات کے لیے ویانا پہنچ گیا

یورپی یونین کے نمائندے کی بھی ایرانی نمائدے سے مذاکرات کے لیے ویانا آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کے سلسلے میں ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ علی باقری کانی 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے کی بحالی لیے مذاکرات کرنے ویانا روانہ ہو گئے ہیں۔ امکانی طور پر آج جمعرات کے روز وہ عالمی طاقتوں کے نمائندے سے ملاقات کریں گے۔

ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے اس بارے میں بدھ کے روز کہا ' ایرانی نمائندے کے طور پر علی باقری کانی مذاکرات کے اس دور میں عالمی طاقتوں کی طرف سے جوہری معاہدے کی بحالی کے سلسلے میں خیالات اور تصورات پر بھی بات ہوگی اور ایرانی تصورات بھی پیش کیے جائیں گے۔

ایرانی ترجمان نے یہ بھی کہا 'یورپی یونین کے نمائندہ انریکے مورا بھی ویانا پہنچ رہے ہیں۔ وہ ایران کے ساتھ سات سال قبل ہونے والے جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے ایک کوآرڈینیٹر کے طور پر کام کر رہے ہیں، وہ بھی ایرانی نمائندے کے ساتھ مذاکرات کے لیے ویانا پہنچ رہے ہیں۔'

ادھر مورا نے ویانا کی طرف روانہ ہونے سے قبل اپنے ایک ٹویٹ بیان میں کہا ' ویانا جاتے ہوئے میں ایران کے ساتھ ماضی میں ہونے والے پلان آف ایکشن' ہماری کوشش ہےکہ کوآرڈینیٹرز کی طرف سے بیس جولائی کو پیش کیے گئے مسودے کی بنیاد پر پورا عمل درآمد کیا جائے۔'

انہوں نے اپنے ٹویٹ میں مزید کہا ہم ویانا میں مذاکرات کے لیے آسٹریا کے حکام کے ممنون ہیں۔ '

خیال رہے ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا پچھلا دور ماہ جولائی کے دوران دوحہ میں ہوا تھا۔ ایران نے امریکا کےساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار کر دیا تھا اس لیے مورا نے ہی دوحہ میں امریکہ کی طرف سے ایران کےساتھ بات چیت کی تھی۔

ان بالواسطہ مذاکرات کا اسلسلہ دو روز جاری رہا تھا مگر کوئی نتیجہ سامنے نہ آیا تھا۔ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذارات کا سلسلہ گذشتہ تقریبا ایک سال سے جاری ہے تاکہ 2015 میں ہونے والے معاہدے کی بحالی ممکن ہو جائے۔

اس سے قبل ایران امریکا بات چیت ماہ مارچ کے دوران اس وقت تعطل کا شکار ہو گئے تھے جب ایران کا اصرار تھا کہ ایرانی حمایت یافتہ تنظیم کو دہشت گرد تنظیم کی فہرست سے نکال سکا ۔ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں 2019 کے دوران کیا تھا۔

دوہزار پندرہ میں ہونےوالے معاہدے کے نتیجے میں امریکا نے ایران سے بہت ساری پابندیاں اٹھا لی تھیں۔ لیکن دوہزار اٹھارہ میں امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو ایرانی جوہری معاہدے سے الگ کر لیا تھا اور ایران پر پابندیوں کا نئے سرے سے اطلاق کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں