.

سعودی عرب: پہاڑ کھود کر بنائے گئے اسٹیڈیم میں کھیلوں کی رونقیں لوٹ آئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں جازان کے مشرق میں واقع بنی مالک گورنری میں واقع رجال الحشر میں پہاڑ کھود کر بنائے گئے اسٹیڈیم میں کرونا وائرس کی وجہ سے دو سال تک کھیلوں میں پابندی کے بعد ایک بار پھر وہاں پر کھیلوں کے مقابلے شروع ہوگئے ہیں۔ آخری بار سنہ 2019ء میں اس اسٹیڈیم کو ایشین فٹ بال کنفیڈریشن کے مقابلے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے اسٹیڈیم کے مالک محمد حربان الحریصی نے کہا کہ اسٹیڈیم کھیلوں کا ایک شاہکار ہے، جسے مردوں نے فٹ بال اسٹیڈیم کی تعمیر کے دوران زمین کھودنے اور چٹان کو رضاکارانہ طور پر ہٹانے کے بعد بنایا تھا۔ یہ منصوبہ 2003 میں شروع کیا گیا تھا اور ذاتی کوششوں سے اب تک اسٹیڈیم پر کام جاری ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جازان کے علاقے سے 100 کلومیٹر مشرق میں واقع اسٹیڈیم کا مقام اور تقریباً 15,000 شائقین کی گنجائش ہے جہاں تماشائیوں کے بیٹھنے کے لیے پتھروں سے پتھروں سے زینے بنائے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جازان کے علاقے میں الحشر پہاڑوں میں تراشے گئے اسٹیڈیم کی سرگرمی فٹ بال کے میچوں کی میزبانی سے آگے والی بال اور کراس کنٹری سمیت دیگر کھیلوں تک پہنچ گئی ہے۔

اسٹیڈیم کے خیال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سنہ 1997 میں حشر پہاڑوں میں ایک ایسا اسٹیڈیم بنانے کا سوچا جسے پہاڑ کھود کر بنایا گیا ہوگیا۔ چنانچہ اس منصوبےپر سنہ 2003ء میں کام شروع کردیا گیا۔

اس کے بعد یہ دیہات کے لوگوں کے لیے ایک حقیقی مرکز بن گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جازان میں الحشر ماؤنٹینز کاروڈ اسٹیڈیم کے قیام کی کل لاگت 20 لاکھ ریال تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں