’زندگی میں ہزاروں کتابیں پڑھ چکا ہوں مگرعلم کی پیاس نہیں بجھی‘

سعودی عرب میں سب سے پرانی ہوم لائبریری کے مالک جار اللہ عیاش سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب میں ویسے تو ہزاروں کی تعداد میں لائبریریاں ہوں گی تبوک شہر میں جار اللہ عیاش العنزی کی لائبریری کی خاص بات یہ ہے کہ یہ لائبریری مملکت کی سب سے پرانے ہوم لائبریری ہے اور اس کے مالک جار اللہ کی عمر اس وقت 88 برس ہے۔

جار اللہ عنزی اپنا زیادہ تر وقت اسی لائبریری میں مطالعے میں صرف کرتے ہیں۔ اس لائبریری کی بنیاد 58 سال قبل رکھی گئی تھی۔ مطالعے کا ذوق رکھنے والے تشنگان علم اس لائبریری سے استفادہ کرتے رہتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات، سماج، لٹریچر اور تاریخ سمیت کئی موضوعات پر اس لائبریری میں امہات کتب کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔

انکل جاراللہ کو جو چیز ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ تعلیم یافتہ اور ایک علمی شخصیت ہیں۔ اس حقیقت کے باوجود کہ ان کی گواہی ابتدائی ہے۔

معاصر عزیز’سبق‘ سے بات کرتےہوئے عنزی نے کہا کہ "انٹرنیٹ سے پہلے کے مرحلے میں مجھے لائبریری کے زائرین کو بہت سے محققین اور طلباء کے لیے منظم کرنا پڑا۔ان کا کہنا تھا کہ لائبریری سے استفادہ کرنے والوں میں نہ صرف مرد حضرات شامل تھے بلکہ خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی ان کی لائبریری سے کتابیں مستعار لیتی تھی۔

العنزی نے وضاحت کی کہ وہ ان کتابوں کی تعداد کا تعین نہیں کر سکتے جو انہوں نے پڑھی ہیں۔اس کےباوجود ان کے علم کی پیاس نہیں بجھ سکی،انہوں نے کہا کہ میں مختلف علوم پربہت زیادہ کتابیں پڑھ چکا ہوں۔ ان میں سر فہرست قرآن پاک اور اسلامی علوم کی کتب ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں