.

ایرانی جنرل اور پاسداروں کی نماز جنازہ کے لیے ہزاروں کے اجتماع

تہران کی گلیوں میں لوگ امڈ آئے۔ جرنیل سمیت پاسدران کی ہلاکتیں شام میں ہوئی تھیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی دارالحکومت کی گلیوں میں اور سڑکوں پر جمعرات کے روز لوگوں کا بہت بڑا ہجوم امڈ آیا۔ یہ سب لوگ شام میں ہلاک ہونے والے ان افسروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کے جنازے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ یہ شام کی خانہ جنگی میں ایران کی موجودگی اور ملوث ہونے کا انسانی قیمت کی صورت میں ایک ثبوت بھی تھا اور ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے ویانا میں مذاکرات کی ایک اور کڑی کے موقع پر قوم پرستی کی عوامی قوت کا مظاہرہ بھی۔

ایرانی عوام پاسداران انقلاب سے وابستہ ارکان کی ٓان باقیات کے ملنے کے بعد جمع تھے جو خان تمن کے علاقے سے ملی تھیں۔ عدلب سے تقریبا پندرہ کلومیٹر جنوب میں واقع ایک ملی تھیں ، کہ عدلب ہی وہ شہر ہے جو خانہ جنگی کے دوران فرنٹ لائن پر ہونے کی وجہ سے اہم ترین رہا تھا۔

پاسدران انقلاب کے ان پانچ ہلاک ہونے والے ارکان کو جنگجووں کے طور پر شناخت کیا گیا تھا۔ ان کی ہلاکت کے بارے میں کچھ تفصیلات ملی تھیں۔۔ مگریہ جنرل عبداللہ السکندری کے بارے میں نہ تھیں۔ ایک ایسا زبر دست کمانڈر جس کے بارے کہا جاتا رہا کہ وہ سرکٹا جرنیل ہے ،، جسے باغیوں نے مئی 2014 میں مارنے کے بعد اس ایرانی جرنیل کسکا سر بھی کاٹ دیا تھا۔ یہ تمام لاشیں ایک طویل وقفے کے بعد لمبے پراسس کے بعد ملی ہیں اور اس دوران ان کا 'ڈی این اے ' بھی کروایا گیا تاکہ شناخت ہو سکے۔

ایران نے وقت کے ساتھ اپنی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کو تسلیم کرنا شروع کیا جب روسی فضائی حملوں کے بعد زمین پر بشارالاسد کا کنٹرول ہو نے لگا۔ تاہم ایران نے اپنی افواج کے محض مشاورتی کردار کو ہی تسلیم کیا ہے۔ اگرچہ ایران کے درجنوں فوجی اہلکار جنگ کے دوران مارے جاتے رہے۔

جنازوں میں شرکت کے لیے آنے والے ان ہزاروں ایرانیوں کے ہجوم پورے ایران میں رواں ہفتے کے دوران دیکھنے کو ملتے رہے جب ان کا آغازپیر کے روز ایران کے شمالی شہر مشہد سے ہوا۔ کہ ہلاک شدہ فوجی کی لاش یا باقیات کو اس کی تدفین کے لیے اس کی پیدائش والے علاقے میں لایا گیا۔

جمعرات کے روز تہران کی گلیاں یوم عاشور کی نسبت سے سرخ پرچموں سے بھری ہوئی تھیں اور مرگ بر امریکہ اور مرگ بر اسرائیل کے نعرے لگ رہے تھے۔ اس موقع پر جنرل حسین سلامی کمانڈر پاسدران نے اپنے سپاہیوں کی باقیات کی واپسی اور بشارالاسد کی حکومت بچ جانے پر خوشی کا اظہار کیا۔

جنرل حسین سلامی کا کہنا تھا ' ہم بشارالاسد کی حکومت کو باقی دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن امریکہ، یورپ اور عرب دنیا اس کے حق میں نہیں ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اب کون ملک میں رہتا ہے۔ '

اسی دوران ایرانی انٹیلی جنس سے متعلق وزارت کے حکم کا کہنا ہے دس مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جو ان کا تعلق مبینہ طور پر داعش کے ساتھ ہے جو عشرہ محرم کے دوران عاشورہ کے جلوسوں کو مختلف مقامات پر نشانہ بنانے کے منصوبے بنائے ہوئے تھے۔ ان میں سے دو مشتبہ افراد فائرنگ کے ایک واقعے مین زخمی بھی ہو گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں