.

غزہ پر اسرائیلی حملہ، اسلامی جہاد کے رہنما کو نشانہ بنایا گیا

حملے دوران دھماکے کی آوازیں اور ادھواں اٹھتا رہا، کشیدگی پھیلنے کا خطرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی طرف سے جمعہ کے روز غزہ پر فضائی حملے کے بعد 'ایمرجنسی حالت' ڈکلئیر کر دی گئی ہے۔ پچھلے کئی روز سے مغربی کنارے میں کشیدگی اور ایک سینئیر فلسطینی مزاحمت کار کی گرفتاری کے بعد اسے 'ہوم فرنٹ' پر خصوصی صورتحال کا نام دیا گیا ہے۔

ادھر غزہ میں اسلامی جہاد کے کمانڈر کو ایک اسرئیلی حملے میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر غزہ سٹی میں دھماکے کی آواز سنی گئی۔ دھماکے کے ساتھ دھواں بھی اڑتا رہا، مگر یہ ایک اونچی بلڈنگ کی ساتویں منزل پر ہوا۔ اسرائیل نے غزہ کو جانےوالی سڑکیں ایک ہفتہ پہلے ہی بند کردی تھیں۔ اور سرحدی علاقے میں اپنی فوجی نفری کو مزید بڑھایا تھا۔ اس کا یہ اقدام ایک فلسطینی مزاحمت کار رہنما کی گرفتاری کے بعد کیا تھا۔

غزہ میں ہونے والے اسرائیلی حملے سے فوری طور پر یہ اندازہ نہیں کیا جاسکا کہ اس نے کس عمارت یا مقام کو بطور خاص نشانہ بنانے کی کوشش میں ہے اور یہ معاملہ کتنا آگے پھیل سکے گا۔ پچھلے پندرہ برسوں سے جب سے غزہ کا محاصرہ جاری ہے اسرائیل اور حماس کے درمیان چار جنگیں لڑی جا چکی ہیں جبکہ چھوٹی موٹی جھڑپیں اس کے علاوہ ہوتی رہی ہیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے جمعہ کے روز غزہ کے نزدیک یہودی کمیونٹییز کا دورہ کیا اور دھمکی دی ہے کہ اسرائیلی اتھارٹی کارروائی کی تیاری کر رہی ہے تاکہ اس علاقے سے موجود خطرے کو ختم کیا جاسکے۔ 'تاہم اسرائیلی وزیر نے اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی ہے کہ رویے سخن کس طرف ہے۔'

اسرائیلی وزیر دفاع نے مزید کہا 'ہم اپنی صلاحیت اور بیرونی طاقت کے ساتھ آپریشن کریں گے تاکہ اسرائیل کے جنوب میں معمول کی زندگی بحال کر سکیں، ساتھ ہی یہ بھی کہا ' ہم تصادم نہیں چاہتے ہیں، مگر ہم اپنے شہریوں کے تحفظ میں ہچکچاہٹ نہیں دکھائیں گے۔'

خیال رہے حالیہ کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب اسرائیل نے حماس کے سینئیر ممبر کو جنین کے قصبے میں پیر کے روز مقبوضہ مغربی کنارے سے گرفتار کر لیا اور ایک سولہ سالہ فلسطینی مزاحمت کار اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان تصادم کے دوران مارا گیا۔

اسلامی جہاد کے رہنما احمد مدلل نے کہا ان کے جہاد گروپ نے مصر کے ذریعے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ نظر بند کیے گئے مزاحمت کار اور دوسرے فلسطینیوں کو رہا کرے، مغربی کنارے میں چھاپے بند کرے اور غزہ کا محارہ ختم کرے۔ تاہم ابھی ان مطالبات کا جواب نہیں آیا ہے۔

دریں اثنا جمعہ کے روز دوس و اسرائیلیوں نے غزہ کی پٹی کے نزدیک احتجاج کیا کہ ایک اسرائیلی مغوی اور دو اسرائیلی فوجیوں کو حماس کی قید سے رہا کیا جائے۔ ان احتجاج کرنے والوں نے راستے میں قائم پولیس کی دو چیک پوسٹیں بھی گرا دیں تاہم انہیں غزہ کے قریب متیسری چیک پوست پر روک دیا گیا۔ یہ اسرائیلی اپنے فوجیوں کی واپسی کا مطالبہ کرہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں