.

غزہ کا اکلوتا پاور پلانٹ ایندھن کی قِلّت کی بناپربند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کے واحد پاورپلانٹ کوایندھن ختم ہونے کے بعد بند کردیا گیا ہے۔اسرائیل نے فلسطینی علاقے کے ساتھ واقع اپنی گذرگاہ کو پانچ روز قبل ضروری سامان کی نقل وحمل کے لیے بند کردیا تھا اوراس کے تین روز بعد غزہ پر ایک مرتبہ پھر فضائی حملے شروع کردیے ہیں جس سے اس محصور علاقے کے مکین ایک مرتبہ پھر مشکلات سے دوچار ہوگئے ہیں۔

غزہ میں بجلی کمپنی کے ترجمان محمدثابت نے کہا کہ ایندھن کی قلّت کی وجہ سے ہفتے کے روزاکلوتا بجلی گھر بند ہو گیا ہے۔

اسرائیل نے گذشتہ منگل کے روز غزہ کے ساتھ ضروری سامان کی حمل ونقل اور لوگوں کی آمدورفت کے لیے کھلی گذرگاہ بند کردیا تھا جس سے ایندھن کی رسد بھی رک گئی تھی اور بجلی گھرکو پہلے سے ذخیرہ شدہ ایندھن سے چلایا جارہا تھا۔

محمد ثابت نے کہا کہ’’اب غزہ میں بجلی کی ترسیل دن میں صرف چارگھنٹے تک ہی ممکن ہوگی‘‘۔اس پاورپلانٹ کوچلانے کے لیے ڈیزل عام طور پر مصر یا اسرائیل سے ٹرکوں پرلاد کر لایاجاتا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے 2007 میں حماس کےغزہ پر کنٹرول کے بعد سے کھلے جیل نما فلسطینی علاقے کی بری ، بحری اور فضائی ناکابندی کررکھی ہے۔اس دوران نے اس غزہ کے مکینوں پر متعدد جنگیں مسلط کی ہیں۔

اسرائیلی فوج نے غزہ کے ساتھ اپنی گذرگاہ کو بند کرنے کی تازہ انتقامی کارروائی مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی تنظیم جہاداسلامی کے دوسینیرارکان کی گرفتاری کے بعد کی ہے۔

اسرائیلی فوج نے مزیدجارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے جمعہ کو غزہ کی پٹی پرحفظ ماتقدم کے طور پر فضائی حملے شروع کردیے تھے۔اس کے ردعمل میں عسکریت پسندوں نے اسرائیل کی طرف راکٹ داغے ہیں۔

قبل ازیں غزہ کی بجلی کمپنی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاورپلانٹ کی بندش سے ’’تمام سرکاری خدمات اور اہم تنصیبات متاثر ہوں گی اورانسانی صورت حال مزید خراب ہو جائے گی‘‘۔کمپنی نے مطالبہ کیاکہ "تمام فریق فوری مداخلت کریں،پاورپلانٹ کو چلانے کے لیے ایندھن کی ترسیل کو یقینی بنائیں اوراسرائیل کے ساتھ واقع سرحدی گذرگاہ کو کھلا رکھنے میں کردار ادا کریں۔

اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور(او سی ایچ اے) کے اعداد و شمار کے مطابق غزہ کے 23 لاکھ مکینوں کو بجلی کی باقاعدہ قلّت کا سامنا ہے اورگذشتہ ہفتے انھیں روزانہ اوسطاً 10 گھنٹے بجلی مہیا کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں