.

غزہ پراسرائیل کی جارحیت کا دوسراروز،سعودی عرب کی فضائی حملوں کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پرہفتے کو دوسرے روز بھی حملے جاری رکھے ہیں اورفلسطینی مزاحمتی تنظیم جہادِاسلامی کے اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ سعودی عرب نے اسرائیلی فوج کے غزہ پرحملوں کی مذمت کی ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مملکت فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔اس نےعالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کوختم کرانے کے لیے اپنی کاوشیں بروئے کارلائے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شہریوں کو تشدد سے بچانا ہوگا۔

صہیونی فوج نے جمعہ کوغزہ شہرپر فضائی حملوں سے اس تازہ جارحیت کا آغاز کیا تھا اور ایک ٹاورکو دن کے وقت اچانک فضائی بمباری میں نشانہ بنایا تھا۔اس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس حملے میں فلسطینی تنظیم جہاداسلامی کا ایک سرکردہ کمانڈرمارا گیا ہے۔اس کے جواب میں جہاداسلامی نے اسرائیل کے تجارتی مرکز تل ابیب تک راکٹ داغے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روزغزہ کے اقامتی علاقوں میں چھپے ہوئے جہادِاسلامی کے عسکریت پسندوں اور ہتھیاروں کے ڈپوؤں پرحملے کیے ہیں۔ شہر میں پانچ گھروں پربمباری کے بعد دھماکے ہوئے ہیں۔اس کے بعد دھویں اور دھول کے بادل آسمان کی طرف بلند ہوتے دیکھے گئے ہیں۔

فلسطینی عسکریت پسندوں نے صہیونی فوج کی جارحیت کے ردعمل میں اسرائیل کی جانب کم سے کم 200 راکٹ داغے ہیں۔ان میں سے بیشتر کو روک لیا گیا،فضائی حملوں کے سائرن بجائے گئے اورلوگوں کو بمباری سے بچنے کے لیے محفوظ پناہ گاہوں میں بھیج دیا گیا۔ اسرائیلی ایمبولینس سروس کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

اسرائیلی طیاروں نےروزغزہ میں عسکریت پسندوں کے اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ جنوبی اسرائیل پرراکٹوں کی بارش ہوئی ہے۔اسرائیلی فضائی حملوں کے چند گھنٹے کے بعد15 فلسطینیوں کے شہید ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ان میں ایک سینیرعسکریت پسند اور ایک پانچ سالہ بچّی بھی شامل ہے۔

جمعہ کوجہاداسلامی کے ایک سینیر کمانڈرکے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ڈرامائی اہدافی قتل سے شروع ہونے والی لکارروائی رات بھر جاری رہی تھی۔دوپہر سے کچھ دیر قبل اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ میں فضائی حملے تیزکر دیے۔ فون کالزمیں مکینوں کوخبردارکرنے کے بعد لڑاکا طیاروں نے جہاد اسلامی کے ایک کارکن کے گھرپردو بم گرائے جس سے غزہ شہرکے مغربی حصے میں واقع مکان کا دومنزلہ ڈھانچا زمین بوس ہوگیااورپاس پڑوس کے مکانوں کو بھی بری طرح نقصان پہنچا۔خواتین اور بچے گھروں سے باہر نکل آئے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ حملوں میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے ساتھ تین حفاظتی ٹاوروں کو دھماکے سے اڑا دیا گیا ہے۔

جہاد اسلامی نے شمالی غزہ میں اپنے ایک کمانڈرتاثیرالجابری کی موت کی تصدیق کی ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ یہ حملے ٹینک شکن میزائلوں سے لیس دوعسکریت پسند دستوں سے لاحق خطرے کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ ترجمان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ الجابری کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا اور وہ اسرائیل پر’’متعدد حملوں‘‘کے ذمہ دار تھے۔

لیکن غزہ کی حکمران تنظیم حماس فی الحال اس تنازع میں لاتعلق نظرآئی ہے اور بظاہراسرائیلی فوج نے جہاداسلامی ہی کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا ہے اور اس تنظیم نے جواب میں راکٹ باری کی ہے۔یادرہے کہ اسرائیل اور حماس نے گذشتہ 15 سال کے دوران میں چاربڑی اور کئی چھوٹی جنگیں لڑی ہیں۔ان کی قیمت اس محصورعلاقے کے 20 لاکھ سے مکین فلسطینیوں کوچکانا پڑی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم یائرلاپیڈ نے جمعہ کو قومی ٹیلی ویژن پر ایک تقریر میں کہا تھا کہ ان کے ملک نے یہ حملے’’ٹھوس خطرات‘‘کی بنیاد پر کیے ہیں۔لاپیڈ نے کہا کہ ان کی حکومت کی غزہ سے اسرائیلی علاقے کی طرف کسی بھی قسم کے حملوں پرکوئی رورعایت نہ برتنے کی پالیسی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گا جب تک ایسے لوگ ہوں گے جواس کے شہریوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔انھوں نے واضح کیا اسرائیل غزہ میں وسیع تر تنازع میں دلچسپی نہیں رکھتا لیکن وہ اس سے گریزبھی نہیں کرے گا۔

دریں اثناء مصر کا کہنا ہے کہ وہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے فریقین سے بات چیت میں مصروف ہے۔قطر بھی اپنے تئیں لڑائی کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں