یروشلم منتقلی کے ایک سال بعد ہنڈوراس کا سفارت خانہ تل ابیب منتقل کرنے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ہنڈوراس کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل میں اپنے سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کے ایک سال بعد تل ابیب واپس کرنے پر غور کر رہا ہے۔

ہنڈوراس کے سابق قدامت پسند صدر جوآن اورلینڈو ہرنینڈز جو خود کو واشنگٹن کا قریبی اتحادی سمجھتے تھے نے 2021 میں اسرائیل میں ہنڈوراس کے سفارت خانے کو یروشلم منتقل کیا۔

امریکا نے 2018 میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کیا جس نےکئی دہائیوں پر محیط امریکی پالیسی کو تبدیل کر دیا۔

بائیں بازو کے چیومارا کاسترو نے گذشتہ جنوری میں صدارت کا عہدہ سنھبالا وہ نسبتا روشن خیال صدر ہیں۔

ہنڈوراس کے وزیر خارجہ اینریک رینا نے سوموار کو ایک بیان میں کہا کہ "سفارتخانے کو تل ابیب منتقل کرنے کے معاملے پر صدر (کاسترو) کے ساتھ پہلے ہی بات چیت ہو چکی ہے۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جو ان کے لیے اہم ہے اور وہ اس کے بارے میں فکر مند ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ متوازن تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تاکہ عرب ممالک اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھا جائے۔

Untitled 1

اسرائیل جس نے 1967 کی جنگ میں شہر پر قبضہ کرنے کے بعد یروشلم کا مشرقی حصہ ضم کرلیا تھا جس کے بعد القدس کو صہیونی ریاست کا دارالحکومت بنانے کی مہم شروع کی گئی تھی۔

اب تج امریکا، ہنڈوراس، گوئٹے مالا اور کوسوو کے سفارت خانے یروشلم منتقل ہوچکے ہیں۔ باقی ممالک کے سفارت خانے تل ابیب میں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں