جنگی تصادم کےدوران بچوں کا ہلاک،زخمی اورمعذورہونا قابل برداشت نہیں۔ انسانی حقوق کمیشن

غزہ پر اسرائیلی حملے میں 17 فلسطینی بچے جاں بحق ، 151 زخمی ۔ بچوں کی ہلاکت کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے شعبے کے سربراہ نے اس ماہ فلسطینی بچوں کو قتل اور زخمی کرنے کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کے حق میں آواز بلند کی ہے۔ پچھلے ہفتے تین دن تک غزہ کی گنجان ترین آبادی میں اسرائیل اور اسلامی جہاد کے عسکریت پسندوں کے درمیان شدید تصادم رہا۔

اقوا متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق چیف مشیل بیچلیٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ' کسی تصادم کی لپیٹ میں بچوں کو لینا انہیں زخمی اور ہلاک کرنا بہت تکلیف دہ بات ہے۔ اس سال کے دوران بہت سارے بچوں کا ہلاک ہونا اور معذور ہونا قابل برداشت نہیں ہے۔ اسرائیل نے غزہ میں اپنی فضائی اور توپ خانے کا استعمال کرتے ہوئے اسلامی جہاد گروپ کو نشانہ بنانے کے نام پر بمباری کی تھی جس میں سویلین فلسطینیوں سمیت بچے بھی لقمہ اجل بنے۔

اس باری میں مشیل بیچلیٹ کے دفتر کا کہنا ہے کہ تین دنوں کے دوران 19 فلسطینی بچے جاں بحق ہوئے۔ یہ سب فلسطینی آبادی کے اندر ہوئے اور اس طرح مجموعی طور اس سال 37 بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔

ان میں سے سے 17 بچے پانچ اگست سے سات اگست کے دوران جاں بحق ہوئے جبکہ بعد ازاں منگل کے روز اسرائیلی فوج نے دو بچوں کو مغربی کنارے میں اپنی فائرنگ سے نشانہ بنایا۔ مجموعی طور پر گذشتہ ہفتے غزہ میں 48 فلسطینیوں کو اسرائیلی بمباری کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔ ان میں 22 سویلین شہری، چار خواتین اور 17 بچے شامل تھے۔

علاوہ ازین 360 فلسطینی زخمی ہوئے ، ان زخمیوں میں سے بھی دو تہائی تعداد سویلین اور عام فلسطینیوں کی تھی ، زخمیوں میں 151 بچے اور 58 فلسطینی خواتین تھیں جبکہ 19 بڑی عمر کے فلسطینی تھے۔

مشیل بیچلیٹ نے مزید کہا جس کسی بھی حملے کے آغا زمیں ہی جب علم ہو کہ گنجان آبادی کی وجہ سے سویلین نشانہ بنیں گے۔ گھروں سمیت سویلین عمارات تنباہ ہوں گے اور زیادہ نقصان عام لوگوں کو ہی ہوگا تو ایسے حملوں کو ہونا ہی نہیں چاہیے، ان حملوں کو روکا جانا چاہیے۔ ' تاہم اقوام متحدہ کی اس ذمہ دار نے اس موقع پر اسرائیل یا اسرائیلی فوج کا نام نہیں لیا ۔ انہوں نے فلسطینی مسلح گروپوں کی طرف سے راکٹ داغے جانے کو بھی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ۔ ان کا نشانہ بھی عام شہری ہی بنے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں