معاشی بحران زدہ لبنان میں زعتر کی خوشبو اور لذت باقی رکھی جا سکے گی

اقوام متحدہ کے صنعتی ترقی کے شعبے کی مدد سے ادارے کی تشکیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان، لبنان نہیں ہو سکتا اگر اس کی صبح میں زعتر کی خوشبو شامل نہ ہو۔ بیکری سے اس کی آمد کا انتظار ایک فوری تیار ناشتے کے لیے یا ایک پیسٹ میں ملا کر استعمال کرنا ایک روایتی معمول ہے۔ یہ عام طور پر ناشتے کی میز پر موجود ہوتا ہے۔ یہ تائیم، سماق اور بھنے ہوئے تل اور نمک واپس گھروں کو لوٹنے والے سیاح کے بیگ میں ہوتے ہیں۔ لبنان کے لوگ بھی اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو سوغات کے طور پر بھیجا جاتا ہے۔

بہترین زعتر دیہاتوں میں چھوٹے پیمانے پر تیار کیا جاتا ہے۔ تائم کی زرعی پیداوار لینے والے روایتی طور پر جانتے ہیں کہ انہیں یہ کس طرح تیار کرنا ہے۔

لبنان جو آج بھی معیشت کے بحرانوں میں گھرا ہوا ہے زعتر کے تیار کرنے والے مشکل میں ہیں۔ وہ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ اس کی فروخت اس حد تک ضرور ہو جائے کم از کم اتنا کما سکیں کہ مہنگے ہوچکے تیل سے جنریٹر کا استعمال آسانی سے کر سکیں۔

ان میں اکثریت کو حکومتی سطح سے فراہم کی جانے والی بجلی پورے دن میں محض ایک یا دو گھنٹے کے لیے ہی ملتی ہے۔ مطلب یہ کہ پمپ کر کے پانی حاصل کرنے سے لے کر مشین تک چلانا ممکن نہیں ہوپاتا، یہاں تک کہ موبائل فون سروس تک میسر نہیں رہتی۔

اقوام متحدہ کے صنعتی ترقی کی تنظیم کے توسط سے پروگرام' مزیج ' اسی لیے شروع کیا گیا ہے۔ تاکہ ان مشکلات میں گھرے زعتر کے تیار کرنے والوں کو مدد دی جا سکے۔ اس پروگرام میں زعتر تیار کرنے کی مہارت میں بہتری سے لے کر ، مشینری کی دستیابی، پیکجنگ اور تیار شدہ مال منڈی تک پہنچانا سب شامل ہے۔

اس پروگرام کے آگے بڑھنے سے لبنان میں 'ایگری فوڈ' کا بزنس بھی فروغ پائے گا۔ ' ایگری فوڈ' کی زنجیریں بھی قائم ہو سکیں گی۔ اس سلسلے میں خواتین کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ 'اٹالین ایجنسی فار ڈیویلپمنٹ کوآپریشن ' کے بیروت میں ڈائریکٹر الیساندرہ پیرمتی نے ' العربیہ ' سے بات کرتے ہوئے کہا' ہم سمجھتے ہیں کہ لبنان میں اس سلسلے میں پوٹینشل موجود ہے۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں