اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف 50 ہولو کاسٹ کا مرتکب قرار دینے پر اسرائیل خفا

جرمن پولیس نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے خلاف انکوائری شروع کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جرمنی کی پولیس نے فلسطینی صدر محمود عباس کے خلاف ہولو کاسٹ کا ذکر کرنے پر ایک انکوائری شروع کر دی ہے۔ اس پولیس انکوائری کا اعلان جمعہ کے روز کیا گیا ہے۔

محمود عباس نے جرمنی کے حالیہ دورے کے موقع پر جرمن چانسلر کے ساتھ اپنی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم انسانی حقوق کی اسرائیلی کی طرف سے خلاف ورزیوں پر کہا تھا 'اسرائیل 1947 سے اب تک ہم فلسطینیوں کے خلاف 50 ہولوکاسٹ کا ارتکاب کر چکا ہے۔ '

اس پر جرمن چانسلر اولف شولز نے کوئی فوری رد عمل نہیں دیا تھا، نہ کوئی تبصرہ کیا تھا۔ لیکن بعد ازاں جرمنی میں مختلف طبقات کی طرف سے سامنے آنے والی تنقید انہیں ایک ٹویٹ پر مجبور کر دیا 'میں ان غصیلے تبصروں سے بیزار ہوں۔'

اب جمعہ کے روز جرمن پولیس نے بعض عوامی نوعیت کی شکایات پر محمود عباس کے خلاف انکوائری شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ شکایات میں محمود عباس کو 'ہولوکاسٹ سے رشتہ جوڑنے' کے الزام کا ہدف بنایا گیا ہے۔

جرمن پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 'اس انکوائری کے دوران کوئی ایسی چیز سامنے آئی تو اسے جرمن پراسیکیوٹر کے سامنے رکھا جائے گا، پراسیکیوٹر ہی اس امرکا فیصلہ کرے گا کہ محمود عباس کی طرف سے جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے یا نہیں۔'

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے اس بارے میں کہا ہے' فلسطینی صدر اور تمام فلسطینیوں کی اس بارے میں اور اس سے متعلق تمام امور پر پوزیشن بڑی واضح ہے ۔

'ترجمان نے کہا محمود عباس نے بدھ کے روز' ہولو کاسٹ 'کو جدید انسانی تاریخ میں ایک انتہائی سنگین جرم سے تعبیر کیا ہے انہوں نے اس کی نفی نہیں کی ہے۔'

ادھر اسرائیل میں بھی محمود عباس کی طرف سے اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف 'ہولو کاسٹ' کا مرتکب قرار دینے پر کافی غم وغصہ سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم یائر لیپڈ ودیگر نے اس بارے میں کافی سخت رد عمل دیا ہے۔

لیپڈ نے محمود عباس کے اسرائیل پر ہولوکاسٹ کے ارتکاب یعنی فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کا ذکر کرنے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 'یہ الزام جھوٹ پر مبنی ہے اور جرمنی میں کھڑے ہو کر یہ بات کرنا اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔ '

جرمن کی وزارت کارجہ کے ترجمان نے اس معاملے میں کہا ہے کہ ' محمود عباس ہم سمجھتے ہیں کہ محمود عباس سفارتی پاسپورٹ استعمال کرتے ہیں اور انہیں تحفظ حاصل ہیں کہ وہ جرمنی کے سرکاری دورے پر تھے اور فلسطینی اتھارٹی کے نمائندے کے طور پر جرمنی آئے تھے۔'

ترجمان نے یہ واضح کیا کہ جرمنی نے فلسطین کو ایک ملک کے طور پر تسلیم نہیں کیا ہے البتہ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ ہمارے سفارتی تعلقات موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں