سعودی عرب، سمندر میں غرقاب ثقافتی ورثے کی بازیافت کا منصوبہ شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کا ثقافتی کمیشن بحیرہ احمر میں سینکڑوں کلومیٹرپر پھیلے زیر آب عرب ثقافتی ورثے کی تلاش کرے گا۔ یہ بات ثقافتی کمیشن نے ایک ٹویٹ میں کہی ہے۔

زیر آب ثقافتی ورثے سے متعلق سروے، املوج سے راس اے شیخ حمید پراجیکٹ کا مقصد 25 سے زائد زیر آب جگہوں پر ثقافتی ورثوں کا سروے کرنا اوراس کی مدد سے تاریخی ورثے کو دستاویزی شکل دینا ہے۔

ثقافتی کمیشن یہ منصوبہ شاہ عبداللہ یونیورسٹی اور اٹلی کی یونیورسٹی آف ناپلس کے ساتھ اشتراک کی بنیاد پر مکمل کرے گا۔ اس منصوبے کے تحت املوج سے راس شیخ حمید تک کے علاقے میں زیر سمندر پرانے وقتوں میں تباہ شدہ بحری جہازوں کے ملبے اور باقیات کی بھی تلاش کی جائے گی۔ یہ دریافت اور بازیافت کی کوشش 400 کلو میٹر تک بحیرہ احمر میں پھیلی ہو گی۔

سعودی عرب کے زیر تعمیر نیوم شہر میں چہ ہفتوں پر محیط مہم کے نتیجے میں سمندر میں ماحولیاتی نظام ، نمکین پانی کے تالابوں اور مرجان کی چٹانوں کے تحفظ کے نئے سائنسی علوم کو جنم دیا ہے۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران شاہ عبداللہ یونیورسٹی اور ہیریٹیج کمیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے کہا ' خلیج عرب اور بحیرہ احمر میں زیر زمین ثقافتی ورثے کو محفوظ بنانے کے لیے مقامی اور بین الاقوامی سائنسی تعاون کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں