دبئی میں بھی افراط زر بڑھنے سے مہنگائی میں اضافہ ہو گیا

تیل کے مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ سمیت بہت ساری چیزوں کی قیمتوں میں تیزی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

دبئی میں بھی اشیائے صرف کی قیمتیں تیزی سے اونچی ہو گئی ہیں۔ صارفین کے لیے ان قیمتوں کی سطح یورپی ممالک اور سنگاپور کی طرح آسمان کو چھونے لگی ہے۔ یہ صورت حال پچھلے تین برسوں کے دوران افراط زر میں ہونے والے اضافے کی وجہ ہوئی ہے۔

بلوم برگ نے 2016 سے جب سے افراط زر کی مانیٹرنگ شروع کی ہے دبئی میں افراط زر کی شرح ان دنوں بلند ترین سطح 7،1 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس وجہ سے ٹرانسپورٹ، تفریحی سرگرمیوں کے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔ حتٰی کہ کھانے پینے کی اشیا بھی اس مہنگائی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

دبئی میں حالیہ اکتوبر تک افراط زر کی شرح منفی تھی، اب معلوم ہو رہا ہے کہ خلیجی ممالک قیمتوں کے اس بڑھنے کے عمل سے محفوظ نہیں رہے ہیں۔ جیسا کہ عالمی معیشت بھی اس کی زد میں ہے۔

اس صورت حال کے پیش نظر امارات اور دبئی نے اپنے کم آمدنی والے کارکنوں کو اربوں ڈالر پر مبنی ایک ریلیف پیکج کا پہلے ہی اعلان کر رکھا ہے۔ اب اشیائے صرف کو ذخیرہ بھی کیا جارہا ہے۔

عالمی سطح پر مہنگائی کا ریلہ اس علاقے کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ مختلف کمپنیوں نے سبسڈیز نہ دے کر مہنگائی کا سارا بوجھ عام لوگوں پر منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں تیل کی قیمتوں کو اگرچہ ایک جگہ پر ایڈجسٹ کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ اب یہاں بھی رواں سال کے آغاز سے اس کی قیمتوں میں 80 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ خطے کے دوسرے ملکوں میں تیل کی قیمتوں کا معاملہ الگ الگ ہے۔ بعض ملکوں نے اس حوالے سے سبسڈی دے رکھی ہے۔

اماراتی حکومت نے ماہ جولائی میں قیمتوں میں 8،8 فیصد تک اضافہ ہوگیا تو خوراک اور دوسری بنیادی ضروریات کی قیمتیں ایک خاص سطح پر روک کردی گئی ہیں۔ پراپرٹی کی قیمتوں میں 0،9 فیصد اضفہ ہو چکا ہے۔ پراپرٹی کی مارکیٹ میں پچھلے تقریبا سال بھر سے مندی کا رجحان تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں