لبنان میں سعودی سفارت خانہ کے خلاف قتل کی ریکارڈ دھمکیوں کی تحقیقات کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لبنان کے وزیرداخلہ نے بدھ کے روزسکیورٹی فورسز کو بیروت میں سعودی سفارت خانے کے ملازمین کے خلاف جان سے مارنے کی دھمکیوں کی تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔

لبنان میں سعودی سفیرنے اپنے ٹویٹراکاؤنٹ پر جان سے مارنے کی دھمکیوں پر مشتمل ریکارڈنگ شیئرکی ہے۔لبنانی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہاہے کہ وزیرداخلہ باسم مولوی کا معاملے کی تحقیقات کاحکم لبنان کے قومی مفاد،سلامتی اوربرادر ممالک خصوصاً سعودی عرب کے ساتھ اچھے تعلقات کے بارے میں ان کی تشویش پر مبنی ہے۔

اس سے قبل سعودی سفیر ولیدالبخاری نے مملکت کے حامی اکاؤنٹ سے ایک ٹویٹ شیئرکیا تھا۔اس میں ایک شخص کی ریکارڈنگ تھی جس کے بارے میں وزارت داخلہ کا خیال ہے کہ وہ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں رہتا ہے اورسعودی شہری ہے۔بیروت کایہ جنوبی علاقہ ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا گڑھ ہے۔

وزارت داخلہ کے بیان میں کہاگیا ہے کہ ’’یہ شخص دہشت گردی کے جرائم میں ملوث ہونے کی پرسعودی حکام کو مطلوب ہے‘‘۔

اس شخص نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس کے خاندان کے کسی فرد کو کچھ ہوتا ہے تو ’’سعودی سفارت خانے میں کوئی ملازم زندہ نہیں بچے گا۔ میں سعودی سفارت خانے میں موجود ہر شخص کو نیست ونابود کردوں گا، ہر وہ شخص، جوسعودی سفارت خانے سے متعلق ہے‘‘۔

بیروت میں سعودی سفارت خانہ فوری طور پراس معاملے پر تبصرے کے لیے دستیاب نہیں ہوا تھا اور سعودی حکومت کے میڈیا سینٹر نے بھی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

واضح رہے کہ لبنان کے بعض حکام نے حالیہ مہینوں میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔سعودی عرب ماضی میں لبنان کو سب سے بڑا عطیہ دہندہ تھا لیکن حالیہ برسوں میں حزب اللہ کے لبنان کے سیاسی اور معاشرتی منظرنامے میں اثرورسوخ اور ایران نواز پالیسیوں کی وجہ سے اس ننھے ملک کی مالی معاونت سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔امریکا اور سعودی عرب نے حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قراردے رکھا ہے۔

گذشتہ سال دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اس وقت سردمہری کا شکار ہوگئے تھےجب سعودی عرب نے منشیات کی اسمگلنگ کے خدشات پر لبنانی اشیاء کی درآمد پرپابندی عایدکردی تھی اورپھر حزب اللہ کے حامی ایک وزیر کے تنقیدی تبصروں کے بعد بیروت سے اپنے سفیرکو واپس بلا لیا تھا۔

سفیرولید بخاری رواں سال کے اوائل میں بیروت میں واپس آئے تھے اور اس کے بعد سعودی عرب نے فرانس کے ساتھ مل کر لبنان کے شعبہ صحت کو محدود مالی امداد دینے کا وعدہ کیا تھا۔فرانس ہی نے لبنان کے ساتھ سعودیوں کے تعلقات کی بحالی اور معاملہ کاری کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی قیادت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں