جوہری ایران

ایران کے جوہری پروگرام پر دستخط پرموساد کی وارننگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والا جوہری معاہدہ منظور کرلیا گیا تو یہ ایک ’اسٹریٹجک تباہی‘ ہو گا۔

برنیا کا خیال ہے کہ طویل مدتی معاہدے سے ایران کے لیے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوششیں آسان ہو جائیں گی۔

موساد کے سربراہ کے مطابق اب صرف ایک چیز جو بدل رہی ہے وہ ایرانی "معاہدے کی حکمت عملی" ہےجو امریکا کی قیادت میں بڑی طاقتوں کی سرپرستی میں ہو رہی ہے۔

اسٹریٹجک دلچسپی

موساد کے سربراہ نے کہا کہ ایران معاہدے پر واپس آئے گا کیونکہ ایسا کرنے میں اس کا اور امریکا کا اسٹریٹجک مفاد ہے۔بارنیا نے مختلف بریفنگ میں اشارہ کیا کہ "معاہدوں پر دستخط کا امکان 100 فیصد کے قریب ہے۔"

وزیراعظم یائرلپیڈ کے ساتھ اپنی ملاقات برنیا نے متنبہ کیا کہ دستخط ایرانیوں کو بہت بڑی صلاحیتوں تک پہنچنے کا موقع فراہم کریں گے۔ ایران امریکا کا شکرگذار ہوگا جو تہران پرپابندیاں ہٹا کر اسے کھربوں ڈالر تک رسائی کا موقع فراہم کرے گا۔

موساد چیف نے کہا کہ ایران کے واگزار ہونے والے فنڈز حزب اللہ، فلسطینی اسلامی جہاد، یمن کے حوثیوں، تہران کی وفادار ملیشیا، قدس فورس اور حماس کی مدد کریں گے انہوں نے مزید کہا کہ یہ امریکا اور اسرائیل کے لیے میدان میں بڑے چیلنجز کا باعث بنے گا۔

موساد کے سربراہ کو خدشہ ہے کہ خطے کے کچھ ممالک ایران کو ایک "ماڈل" کے طور پر دیکھیں گے اور اسرائیل کے لیے ایرانی توسیع پسندی کا مقابلہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔

بارنیا نے اپنی بریفنگ میں واضح کیا کہ جس معاہدے پر دستخط ہونے والے ہیں وہ 2015 کے معاہدے سے بھی بدتر ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں