سعودی عرب کالبنان سے سفارت خانہ کودھمکی دینے والے شخص کی حوالگی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

بیروت میں متعیّن سعودی سفیرولیدالبخاری نے کہا ہے کہ مملکت لبنان سے ایک سعودی شخص کی گرفتاری اور حوالگی کا مطالبہ کررہی ہے۔اس مشتبہ شخص نے گذشتہ ہفتے ایک آڈیو ریکارڈنگ میں بیروت میں مملکت کے سفارت خانے کے ملازمین کو قتل کی دھمکی دی تھی۔

ولیدالبخاری نے منگل کے روزلبنان کے وزیرداخلہ سے ملاقات کی ہے۔اس کے بعد انھوں نے لبنانی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردی کے خطرات کے حوالے سے ضروری قانونی طریق کار اختیار کریں۔

لبنانی اورسعودی حکام کا کہنا ہے کہ ریکارڈ کی گئی دھمکیوں کے پیچھے ایک سعودی شخص تھا۔اس کا نام علی ہاشم ہے۔سعودی سفیرنے مملکت کے ایک اکاؤنٹ سے ایک ٹویٹ شیئرکیا تھا۔اس میں ایک شخص کی ریکارڈنگ تھی جس کے بارے میں وزارت داخلہ کا خیال تھا کہ وہ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں رہتا ہے اورسعودی شہری ہے۔بیروت کایہ جنوبی علاقہ ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا گڑھ ہے۔

وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق’’یہ شخص دہشت گردی کے جرائم میں ملوث ہونے کی بنا پرسعودی حکام کو مطلوب ہے‘‘۔اس نے دھمکی دی تھی کہ اگر اس کے خاندان کے کسی فرد کو کچھ ہوتا ہے تو ’’سعودی سفارت خانے میں کوئی ملازم زندہ نہیں بچے گا۔ میں سعودی سفارت خانے میں موجود ہر شخص کو نیست ونابود کردوں گا، ہر وہ شخص، جوسعودی سفارت خانے سے متعلق ہے‘‘۔

لبنانی وزیرداخلہ باسم مولوی نے اس دھمکی کے بعد گذشتہ ہفتے سکیورٹی فورسز کو ہدایت کی تھی کہ وہ ملک کے قومی مفاد اور سلامتی اور برادرممالک بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ اچھے تعلقات کے پیش نظر قتل کی ریکارڈ کی گئی دھمکیوں کی تحقیقات کریں۔

مشرق اوسط کے اس ننھے ملک میں ایران نوازشیعہ ملیشیا حزب اللہ کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ پربرسوں کی کشیدگی کے بعد بعض لبنانی عہدے داروں نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔واضح رہے کہ سعودی عرب اور امریکا دونوں نے حزب اللہ کودہشت گردتنظیم قرار دے رکھاہے۔

گذشتہ سال دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات اس وقت سردمہری کا شکارہوگئے تھے جب سعودی عرب نے منشیات کی اسمگلنگ کے خدشات کے پیش نظرلبنان سے پھلوں ، سبزیوں اور دیگراشیاء کی درآمد پر پابندی عاید کردی تھی اورپھرحزب اللہ کے حامی وزیر کے تنقیدی تبصروں کے بعد اپنے سفیر کو واپس بلالیاتھا۔

تاہم کئی ماہ کے بعد رواں سال کے اوائل میں سعودی سفیرولیدالبخاری بیروت لوٹ آئے تھے اور انھوں نے اپنے فرائض منصبی سنبھال لیے تھے۔

انھوں نے اپنے بیان میں لبنانی سکیورٹی فورسز سے مزید مطالبہ کیا ہے کہ وہ سعودی عرب میں منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھیں۔انھوں نے انکشاف کیاکہ مملکت نے 2015 سے اب تک لبنان سے یا اس کے راستے اسمگل کی جانے والی 70 کروڑ نشہ آورگولیاں اور سیکڑوں کلو چرس ضبط کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں