عراقی صدر ملک میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے قبل ازوقت انتخابات کے حامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراقی صدربرہم صالح نے ملک میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے قبل ازوقت پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کی حمایت کردی ہے۔اس سیاسی بحران کو رواں ہفتے تشدد کے واقعات سے مہمیز ملی ہے جن کے نتیجے میں تیس سے زیادہ افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو گئے ہیں۔

گذشتہ سال منعقدہ انتخابات کے بعداب تک عراق میں نئی حکومت تشکیل پاسکی ہے اور نہ نئے صدر کا انتخاب ہوسکا ہے۔اس صورت حال میں عراق کے طاقتورشیعہ مذہبی پیشوا مقتدیٰ الصدر بھی گذشتہ کچھ عرصے نئے انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کررہے ہیں۔ان کے حامیوں کی گذشتہ روز ریاستی سکیورٹی فورسز اورایران نواز گروپوں سے جھڑپیں ہوئی ہیں۔

برہم صالح نے منگل کے روز ایک تقریر میں کہا کہ قومی اتفاق رائے کے مطابق نئے قبل ازوقت انتخابات کا انعقاد موجودہ شدید بحران سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔انھوں نے کہا کہ نئے انتخابات ہی سیاسی اور سماجی استحکام کی ضمانت دے سکتے ہیں اور عراقی عوام کی امنگوں کا جواب دے سکتے ہیں۔

برہم صالح نے بغداد کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے گرین زون سے مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کے انخلا کے چند گھنٹے کے بعد یہ گفتگوکی ہے۔پیر کے روز شروع ہونے والی لڑائی میں مقتدیٰ الصدر کے تیس حامیوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا اور کم سے کم 570 دیگر زخمی ہو گئے۔الصدر کے وفاداروں نے اپنے رہنما کے سیاست چھوڑنے کےاعلان کے ردعمل میں سرکاری محل پر دھاوا بول دیا تھا۔

واضح رہے کہ عراق کے آئین کے تحت پارلیمنٹ کو ایوان میں مکمل اکثریت کے ووٹ سے ہی تحلیل کیا جا سکتا ہے۔وزیراعظم کی درخواست کے بعد پارلیمان کے ایک تہائی ارکان کی حمایت یا صدر کی منظوری سے اس کو توڑا جاسکتا ہے۔

مقتدیٰ الصدر کا بلاک گذشتہ سال اکتوبر میں منعقدہ انتخابات میں قانون ساز اسمبلی کے سب سے بڑے پارلیمانی دھڑے کے طور پر سامنے آیا تھا اور اس کی 73 نشستیں تھیں اور اسے حکومت کی تشکیل کے لیے دوسری جماعتوں کی حمایت درکار تھی لیکن وہ یہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا۔

اس کے بعد مخلوط حکومت کے تشکیل کے لیے جماعتوں کو مجتمع کرنے میں ناکامی کے بعد الصدر کے ارکان نے جون میں استعفے دے دیے تھے۔اب شیعہ دھڑوں کے درمیان اختلاف کی وجہ سے ملک سیاسی تعطل کا شکار ہوچکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں