مقتدیٰ الصدرنے عراق میں تشدد بند ہونے تک بھوک ہڑتال کا اعلان کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراقی دارالحکومت کے گرین زون میں پرتشدد جھڑپوں کے بعد عراقی پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے والے صدری بلاک کے سربراہ حسن العذاری نے کہا ہے کہ جماعت کے سربراہ مقتدا الصدر نے ملک میں جاری فسادات اور پرتشدد مظاہرے روکے جانے تک بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

العذاری نے ٹیلی گرام پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے مزید کہا "بدعنوانوں کو ہٹانے سے کسی کو بھی، چاہے کچھ بھی ہو، ہر طرف سے تشدد کے استعمال کا جواز نہیں ملتا۔"

قبل ازیں ’العربیہ‘ کے ذرائع نے گرین زون میں سرکاری محل کے قریب میزائل گرنے اور وہاں جاری جھڑپوں میں آر پی جی لانچروں کے استعمال کی اطلاع دی تھی۔

بغداد میں فلسطین اسٹریٹ کے علاقے میں پاپولر موبلائزیشن [الحشد الشعبی] کے ہیڈ کوارٹر پر حملے کی بھی اطلاع ہے۔

اس کے علاوہ گردش کرنے والی تصاویر میں بصرہ میں الصدر کے السلام بریگیڈز کے ہیڈ کوارٹر پر فائرنگ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ شہر میں عراقی حزب اللہ ملیشیا کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایک اور ویڈیو میں بصرہ میں صدری تحریک کے حامیوں اور الحشد کے عسکریت پسندوں کے درمیان مسلح جھڑپیں دکھائی دے رہی ہیں۔

اس سے قبل مقتدیٰ الصدر نے سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا، جس کے بعد ان کے سینکڑوں مشتعل پیروکاروں نے سرکاری محل پر دھاوا بول دیا۔ سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں شروع ہوئیں، جس میں گرین زون میں 15 افراد اور عراقی فوج کے دو سپاہی مارے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں