سعودی عرب سرمایہ کاروں کی جنت بننے کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب خود کو بین الاقوامی سرمایہ کاری کا بہترین مرکز بنانے کے لیے تیزی آگے بڑھ رہا ہے۔ اس امر کا اظہار پی پی جی کے مینجنگ ڈائریکٹر نے کیا ہے۔ ' العربیہ ' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا سعودیہ سرمایہ کاروں کے دنیا بھر میں اہم سرمایہ کاری موقع کے طور پر اپنی مثال آپ ہے اور اس سلسلے میں اس کے مقابل کوئی دوسرا ملک نہیں ہے۔

سرمایہ کاروں کے لیے سعودی سرزمین میں تیزی امکانات کی وسعت آرہی ہے۔ یہ ایک نمایاں بات ہے۔ یہ صاف لگ رہا ہے کہ سعودی عرب سرمایہ کاری کے لیے بہترین انتخاب قرار پائے گا۔ خصوصا کارباری سرمایہ کاروں کے لیے اس کی اہمیت مزید زیادہ ہو گی۔

اس سلسلے میں سعودی حکومت کی طرف سے اقدامات بڑے با معنی ہیں۔ سعودی حکومت کا قواعد بنانا، اصلاحات کرنا اور اپنے ہاں ٹیلنٹ کو مواقع فراہم کرنے کے لیے کاوشیں سعودی حکومت کی درست سمت میں پیش رفت کا باعث ہیں۔

مینجنگ دائریکٹر پال آرنلڈ نے کہا ' سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن 2030 کے مطابق معاشی وسماجی تبدیلیوں اور اصلاحات کے جس سفر کا آغاز 2016 میں کیا گیا تھا وہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ قومی سطح پر ٹرانسفارمیشن کا تقریبا آدھا سفر طے ہو چکا ہے ۔

واضح طور پر اس جانب کامیابی اور ملک میں تبدیلی کی علامات کو دیکھا جا سکتا ہے۔ نیوم شہر ، لائن سٹی اور مملکت میں حیاتیاتی تنوع کے لیے کوششیں ۔ قدیم ثقافتی ورثے کی جگہ العلا کی شروعات ایسی تبدیلی صرف سعودی عرب میں دیکھی جا سکتی ہیں اور کہیں نہیں۔ 2022 میں سعودی عرب دنیا کی تیز ترین معیشت کے طور پر بھی سامنے آیا ہے۔

شرح نمو کی سطح سات اعشاریہ چھ ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔ ایک دہائی کے دوران یہ رفتار تیز تر ہے۔ اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے ویژن 2030 کے مطابق اصلاحاتی پالیسی کو آگے بڑھانے کا ادراک ہے۔ کرونا کے بعد یہ حکمت عملی تیزی سے اگے لے جانے والی ہے۔

دنیا سے سعودی عرب کی طرف بلا روک آنا اور سعودی عرب سے پروازوں کا جانا رابطوں میں بہتری کی نشانی ہے ، اسی طرح ابھی دبئی اور نیوم سٹی کے درمیان پروازیں بھی شروع ہو گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں