بصرہ متحارب شیعہ گروپوں میں مسلح تصادم، چار ہلاک

ہلاک ہونے والے دو افراد الصدر کے حامی تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے اہم جنوبی شہر بصرہ میں مسلح شیعہ گروہوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان مرنے والوں میں سے دو کا تعلق مقتدیٰ الصدر کے حامیوں سے ہے۔

عراق میں بد امنی کے واقعات پیر کے روز ا وقت پھوٹ پڑے تھے جب مقتدیٰ الصدر نے خود کو احتجاجا سیاست سے الگ کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ تاہم اس روز فسادات کا مرکز بغداد تھا۔

مقتدیٰ الصدر معروف شیعہ سکالر ہیں ۔ ان کے بارے میں آج کل یہ تاثر ہے کہ وہ ایران مخالف موقف کے ساتھ ہیں اور ان کے مقابل ایران کے حامی شیعہ کھڑے ہیں۔ گذشتہ سال اکتوبر میں عراق میں ہونے والے عام انتخابات سے سیاسی اختلافات میں پیدا ہونے والی شدت کے باعث نئے وزیر اعظم اور صدر کا انتخاب ممکن نہ ہو سکا ہے۔

اس صورت حال نے بالآخر الصدر کو سیاست سے دور چلے جانے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس سیاست سے علیحدگی کے اعلان سے عراق میں جاری سیاسی کشیدگی کی فضا از سر نو تصادم میں تبدیل ہو گئی ہے۔ جمعرات کے روز بصرہ میں بھی اسی سبب ہونےوالے تصادم میں چار لوگ مارے گئے ہیں۔

پیر کے روز شروع ہونے والے پرتشدد واقعات میں یہ اب تک کا تازہ ترین واقعہ ہے۔ سکیورٹی سے متعلق حکام کا کہنا ہے بصرہ میں تازہ تصادم شہر کے مرکز میں ہوا۔ اس دوران الصدر کے دوحامی بھی مارے گئے۔ ان دونوں کا تعلق الصدر امن بریگیڈ سے تھا۔ ابھی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں