سعودی عرب میں خواتین کی کاروباری شمولیت میں اضافہ ہو رہا ہے: خاتون عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز "منشات" میں خواتین کے انٹرپرینیورشپ ڈپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر افنان ابابطین نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی خواتین کی بطور کاروباری شرکت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ان کی شرکت کی شرح 2016 میں 20 فیصد سے بڑھ کر2022ء میں تقریباً 45 ہو گئی ہے۔

افنان ابابطین نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو خصوصی بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ یہ اضافہ سعودی عرب میں کاروباری نظام کے لیے تمام ممکنہ حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ متعلقہ حکام کی جانب سے ان کی خدمات اور پروگراموں تک رسائی کو آسان بنانے کی کوششوں کا عکاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج سعودی خواتین کاروبار کے میدان میں زبردست ترقی دیکھ رہی ہیں۔ مملکت میں کاروباری میدان میں خواتین کے قائدانہ کردار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہدف بنائے گئے شعبوں میں ان کی موثر شرکت کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور اس حوالے سے ’منشات‘ اپنے شراکت داروں کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "اگر ہم بین الاقوامی ممالک کے مقابلے میں سعودی عرب کی مملکت کی صنعت کاری کے شعبے میں پوزیشن پر نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اس نے عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ خواتین، کاروبار اور قانون کی رپورٹ میں 100 فیصد حاصل کیا ہے۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ یہ رپورٹ بہت سی پیش رفتوں کی عکاسی کرتی ہے۔ اس سے مملکت میں خواتین کی کام کی آزادیوں اور کاروبار میں شمولیت کے حوالے سے قانون سازی بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں