سعودی عرب میں چٹانوں پرانسانوں اور جانوروں کی شکلیں توجہ کا مرکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے محقق احمد نغیثرکو مملکت کے جنوب میں واقع تثلیث گورنری میں ایک راک پینٹنگ ملی ہے۔

راک ڈرائنگ اور نوشتہ جات کے محقق احمد النغیثر نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو اس بات کی تصدیق کی کہ جو پینٹنگ ملی ہے وہ مذہبی رسوم کے رقص کی نمائندگی کرتی ہے یا یہ شکار کی رسومات کے مناظر کے رقص کی نمائندگی کر سکتی ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ان چٹانوں پر بنائی گئی انسانی تصاویر سے ایسے لگتا ہے کہ وہ رقص کررہے ہیں۔اس کا اندازہ اٹھائے گئے بازوؤں سے لگایا گیا ہے جو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ تصاویر رقص کی ہوسکتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی ٹانگیں ایک طرف کے نظارے سے کھینچی گئی ہیں، جہاں کپڑے پورے جسم کو ڈھانپے ہوئے ہیں، جس میں ایک لمبا چوغہ اور پتلون شامل ہے۔ سر بہت چھوٹا اور اسے لمبے بالوں سے سجایا گیا ہے۔ بال اطراف سے لٹکے بنائےگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے روزمرہ کے مناظر مختلف اور متنوع واقعات سے بھرے ہوتے ہیں۔ جیسے شکار کے مناظر، جنگی مناظر، جشن کے مناظر، رقص، خاندانی مناظر اور دیگر مناظر اور یہ ماڈل وہ ڈرائنگ ہیں جو وادی خضر کے اطراف میں واقع ہیں۔ القہرہ پہاڑ عسیر کے علاقے میں تثلیث گورنری میں واقع ہے۔

راک ڈرائنگ

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چٹان کی ڈرائنگز قدیم انسانی معاشروں کے درمیان سماجی، مذہبی اور اقتصادی مسائل سے نمٹنے کے لحاظ سے ان کی ڈرائنگ کی مجموعی مماثلت اور فرق کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ قدیم معاشروں کے طریقوں کو جاننے میں بھی کردار ادا کرتی ہیں۔

انہوں نےکہا کہ میڈیا اور مختلف سوشل میڈیا کے ذریعے شہریوں اور ماہرین میں آثار قدیمہ سے متعلق آگاہی پھیلانا ہم سب کا فرض ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں