بغداد میں احتجاجی مظاہروں میں ایران کے خلاف نعرے بازی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے تاریخی شہر بغداد کے النسور اسکوائر میں دارالحکومت کے وسط میں سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ مظاہرین کرپشن اور کوٹے کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مظاہرین نے عراق کے معاملات میں تہران کی مداخلت کی مذمت میں بھی نعرے لگائے۔ وہ کہہ رہے تھے’’عراق میں ایران کی حکومت نہیں چلے گی‘‘۔

سخت حفاظتی اقدامات

عراقی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ احتجاجی مارچ جس میں تشرین تحریک فورسز کے مظاہرین کئی صوبوں سے آئے تھے کو فول پروف سکیورٹی دی کی گئی تھی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ عراقی دارالحکومت بغداد میں چند روز قبل 29 اگست 2022 کو پر تشدد جھڑپیں ہوئیں جن میں 30 افراد ہلاک اور 600 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ یہ مظاہرے گذشتہ پیر کو شروع ہوئے تھے جو انتہائی سکیورٹی والے گرین زون میں تقریباً 24 گھنٹے تک جاری رہے۔ گرین زون میں حکومتی ہیڈکوارٹر اور سفارتی مشن واقع ہیں۔ عراقی حکومت کے حامیوں کے درمیان ایک طرف الصدر اور دوسری طرف الحشد الشعبی کے وفادار ایک دوسرے کے خلاف صف آ را تھے۔

آخری ریٹائرمنٹ

یہ جھڑپیں اس وقت ہوئیں جب صدری تحریک کے ہزاروں حامی اپنے غصے کا اظہار کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ یہ احتجاج اس وقت شروع ہوا جب مقتدیٰ الصدر نے سیاست سے سبکدوشی کا اعلان کیا۔

یہ تناؤ 10 اکتوبر 2021 کو پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کے مہینوں بعد سامنے آیا، جس میں الصدر نے پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ حصہ سیٹیں حاصل کی تھیں مگر وہ حکومت نہیں بنا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں