غرب اردن: انتہا پسند یہودیوں کی اشتعال انگیزی، فلسطینیوں سے جھگڑے

پولیس دونوں طرف سے کئی افراد کو پکڑ کر لے گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

فلسطینیوں اور یہودیوں کے درمیان مقبوضہ مغربی کنارے کے گاون نبی سموئیل میں جھڑپ ہو گئی۔ اس جھگڑے کا سب ایک انتہا پسند یہودی رکن پارلیمنٹ بین گویر کا ایک مقدس زیارت پر احتجاج کرنا بنا۔ اس زیارت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک نبی کی قبر ہے جو بائبل سے متعلق تھے۔

46 سالہ بین گویر عام طور پر مسلم علاقوں کے اس انداز کے جارحانہ وزٹ کرتا رہتا ہے۔ اس انتہا پسند جیوز پاور نامی سیاسی جماعت کے قائد بین گویر کے زیر قیادت ریلی اور مسلمانوں کے درمیان جمعہ کے روز تنازعہ پیدا ہو گیا۔

مسجد کے نیچے ایک یہودی معبد کا دعویٰ ہے جہاں یہودی اہتمام سے انے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دوران فریقین کی طرف سے باہم تکر اور جھگڑے کی صورت پیدا ہو گئی۔ دونوں طرف کے افراد کو اسرائیلی پولیس پکڑ کر لے گئی۔ تاہم ابھی یہ معلوم نہیں ہے کہ ان میں سے کسی کو باضابطہ طور پر گرفتار بھی کیا گیا ہے کہ نہیں۔

بین گویر انتہا پسند یہودی رہنماوں میں سے ایک ہے۔ وہ پچھلی دو دہائیوں سے اپنی انتہاپسندانہ سرگرمیوں کی وجہ سے بدنام ہے۔ اسی راستے وہ سیاست میں آیا ہے۔ اس کے حامی بھی انتہا پسند یہودی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں