کسی فلسطینی سے محبت ہے؟غربِ اردن کے زائرین کواسرائیلی اتھارٹی کودلچسپی بتاناہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل دریائے اردن کے مقبوضہ مغربی کنارے میں آنے والے غیرملکیوں کے لیے نئے سخت قواعدوضوابط متعارف کرارہا ہے۔ان کے تحت مقبوضہ غربِ اردن میں کسی فلسطینی سے محبت کرنے والے غیرملکی کو اسرائیلی حکام کواپنےایسے تعلقات سے آگاہ کرنا ہوگا۔

بی بی سی نے ہفتے کے روزخبردی ہے کہ یہ فیصلہ اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے میں رہنے والے یا اس کا دورہ کرنے کے خواہش مند غیرملکیوں کے بارے میں ’’قوانین سخت کرنے‘‘کے تناظرمیں کیا گیا ہے۔

نیزفلسطینیوں سے شادی کرنے والے غیرملکیوں کو کم سے کم چھ ماہ کے’’کولنگ آف پیریڈ‘‘کے لیے 27 ماہ کے بعد مغربی کنارے سے نکلنا ہوگا۔بی بی سی کے مطابق یہ نئے قوانین پیر سے نافذالعمل ہوں گے۔

برطانوی نشریاتی ادارے نے97صفحات پرمشتمل ایک دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ فلسطینی شناختی کارڈ کے حامل کسی شخص کے ساتھ تعلقات کوان کی ابتدا سے 30 دن کے اندر اسرائیلی حکام کو بتانا ضروری ہے۔

مزید پابندیاں

دیگر نئی پابندیوں میں 150 طلبہ کے ویزوں کا کوٹا مقرر کیا گیاہے اور فلسطینی یونیورسٹیوں میں صرف 100 غیرملکی لیکچررکی آمد شامل ہے لیکن اسرائیلیوں کے لیے ایسی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ہے۔

مزید برآں، نئے قواعد میں ویزے کے دورانیے اور اس میں توسیع کی مدت پربھی سخت قدغنیں مقررکی گئی ہیں، بہت سے معاملات میں لوگوں کو مغربی کنارے میں چند ماہ سے زیادہ عرصے تک کام کرنے یا رضاکارانہ طور پرکام کرنے سے روکا گیا ہے۔

اس فیصلے سے کاروباری مسافر اور امدادی تنظیمیں متاثر ہوں گی۔اسرائیل کی غیرسرکاری تنظیم حاموکیڈ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر جیسیکا مونٹیل نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اقدام فلسطینی معاشرے کی آبادیاتی انجینئرنگ اور فلسطینی معاشرے کو بیرونی دنیا سے الگ تھلگ کرنے کا حربہ ہے۔انھوں نے ان نے نئے قواعد وضوابط کے خلاف اسرائیلی ہائی کورٹ میں درخواست دائرکی ہے۔

مونٹیل نے مزید کہا کہ ان کی وجہ سے لوگوں کا فلسطینی اداروں میں آنا اور کام کرنا، رضاکارانہ طور پر سرمایہ کاری کرنا، تعلیم دینا اور تعلیم حاصل کرنا بہت مشکل ہوجائے گا۔

دونظام

نئے قواعد کو ’کوگاٹ‘ کی طرف سے جاری کردہ دستاویز میں شائع کیا گیا تھا۔کوگاٹ اسرائیلی وزارت دفاع کا ادارہ ہے جو فلسطینی علاقوں میں شہری امور کا ذمے دار ہے۔

نئے سی او جی اے ٹی آرڈر کا عنوان ہے:’’یہودااور سامریہ کے علاقے میں غیرملکیوں کے داخلے اور رہائش کا طریق کار‘‘- یہ تاریخی نام اسرائیل مغربی کنارے کے لیے استعمال کرتا ہے۔یہ پہلی بار فروری میں شائع ہوا تھا، لیکن مبیّنہ طور پراس کے تعارف میں تاخیر ہوئی ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق نئے قوانین کا اطلاق اسرائیل کا دورہ کرنے والوں پر نہیں ہوتا۔اسرائیلی حکام نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے سفراور کاروبار چلانے پر بہت سی پابندیاں پہلے ہی عاید کررکھی ہیں۔

مثال کے طور پر، اگرچہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کی بستیوں کے باشندے تل ابیب کے نزدیک واقع اسرائیل کے بن گورین بین الاقوامی ہوائی اڈے سے بیرون ملک سفر کر سکتے ہیں، لیکن اس علاقے سے فلسطینیوں کی بڑی اکثریت پر ایسا کرنے پر پابندی عایدہے۔اس کے بجائےفلسطینی پڑوسی ملک اردن کے دارالحکومت عمان سے کسی بین الاقوامی پروازمیں سوار ہوسکتے ہیں لیکن انھیں پرواز پکڑنے سے پہلے مغربی کنارے سے اردن تک ایک زمینی گذرگاہ عبور کرنا پڑتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں