شامی قیدی کی تشدد سے ہلاکت پر پانچ لبنانی اہلکار گرفتار

قیدی تشدد کے باعث محض تین گھنٹوں جاں بحق ہو گیا۔ جسم زخموں سے بھراہواتھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان نے ان پانچ سکیورٹی اہلکاروں کو گرفتار کر لیا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک شامی قیدی کو تشدد کر کے قتل کر دیا تھا۔ یہ گرفتاری ہفتے کے روز عمل میں آئی ہے۔ گرفتاری حکومت کے کمشنر فادی اکیکی کے حکم پر ہوئی ہے، جس نے فوجی عدالت کو ایک شامی قیدی کے تشدد سے مارے جانے کے واقعہ کو دیکھنے کے لیے کہا تھا۔

نوجوان شامی قیدی لبنانی اہلکاروں کے تشدد کے نتیجے میں تین گھنٹوں کے اندر ہلاک ہو گیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ تشدد کی وجہ سے شامی قیدی کو ہارٹ اٹیک ہوا اور جب اسے ہسپتال لایا گیا تو اس کی پہلے ہی موت واقع ہو چکی تھی۔

لبنان کی ریاستی سکیورٹی کے اہلکاروں نے بشر عبدالسعود نامی شامی کو 31 اگست کو گرفتار کیا تھا۔ یہ گرفتاری انٹیلی جنس ادارے کی اطلاع پرلبنان کے جنوبی علاقے بنت جبیل کے علاقے میں ہوئی تھی۔ گرفتاری کے سکیورٹی اہلکاروں کی کوشش تھی کہ اس سے داعش کا لیڈر ہونے کا اعتراف کرایا جائے۔ لیکن وہ اپنی موت تک مسلسل اس الزام سے انکاری رہا۔

اس کی گرفتاری کے بعد بنائی گئی تصاویر سے صاف نظر آتا ہے کہ مرنے والے کا جسم زخموں سے بھرا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ گرفتار ہونےوالے دوسرے افراد کے جسموں پر بھی اسی نوعیت تشدد سے جابجا زخم ہیں۔ تاہم دوسروں کی جان بچ گئی ہے۔ لبنان کی سکیورٹی ادارے پر پہلے بھی اس طرح کے پر تشدد واقعات کا الزام لگائے جاتے رہے ہیں۔ ۔

اسی وجہ سے لبنان میں 2017 میں منظور کیے گئے ایک قانون میں دوران تفتیش تشدد پر پابندی لگا دی تھی۔ لیکن گزشتہ ماہ مارچ کے دوران ایمنسٹی انٹر نیشنل کی شائع ہونے والی رپورٹ میں 26 شامی قیدیوں پر کیے گئے تشدد کی نشاندہی کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں