اردن میں ’لائن‘ مشقیں شروع،پاکستان سمیت27 ممالک کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن کی میزبانی میں شروع ہونے والی ’ایجرلائن‘ فوجی مشقیں چار ستمبر15 ستمبر تک جاری رہیں گی۔ ان مشقوں میں امریکا، برطانیہ اور فرانس سمیت 27 ممالک شرکت کر رہے ہیں۔ ان مشقوں کا مقصد دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے آپریشنز میں حصہ لینا اور خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیاری کرنا ہے۔

اردن کی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مملکت کی سرزمین پر منعقد ہونے والی مشقوں کا یہ دسواں دور04 سے 15 ستمبر تک ہوگا، جس کا مقصد دہشت گردی سے نمٹنے، سکیورٹی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے شعبے میں مشترکہ کوششیں کرنےاور سکیورٹی کے خطرات اور بحرانوں کا جواب دینے کے لیے مختلف ممالک کی ایجنسیوں اور اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "یہ مشقیں ایسے منظرناموں پر تیار کی گئی ہیں جو حقیقت، حالات اور پوری دنیا کو درپیش چیلنجز، بشمول دہشت گردی کے خطرے اور مختلف اقسام کے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے استعمال جیسے نئے خطرات سے نمٹنے کی نمائندگی کرتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مشق کے دوران بہت سے اجلاس اور سیمینار منعقد کیے جائیں گے جو سینیر فوجی رہ نماؤں اور شخصیات کو اکٹھا کریں گے، اور اس کا مقصد دنیا کو سلامتی کے محاذ پر درپیش اہم ترین مسائل اور مخمصوں پر تبادلہ خیال کرنے اور ان سے نمٹنے کے طریقوں پر بحث کریں گے۔

یہ مشقیں اردن کی مسلح افواج، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، کنگ عبداللہ سینٹر فار اسپیشل آپریشنز ٹریننگ، اور نیشنل سینٹر فار سکیورٹی اینڈ کرائسز مینجمنٹ کے شعبوں میں منعقد کی جا رہی ہیں، جن میں زمینی، فضائی اور سمندر کے مختلف قسم کے اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔

بیان کے مطابق ان مشقوں میں جرمنی، اٹلی، جاپان، ناروے، قازقستان، آسٹریا، سویڈن، قبرص، کینیا، یونان، پولینڈ، بیلجیم، پاکستان، آسٹریلیا، سعودی عرب، عراق، لبنان، متحدہ عرب امارات، بحرین ، کویت، عمان اور مراکش، اردن حصہ لے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں