اسرائیل نے مغربی کنارے کے لیے نئے سفری اور رہائشی قوانین موخر کردیے

یہ فیصلہ احتجاج اور ردعمل کے بعد کیا گیا۔ اسرائیلی حقوق گروپس بھی نئے قوانین کے خلاف ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی نے احتجاجی ردعمل کے بعد مغربی کنارے کے حوالے سے نئے ترمیمی قوانین کو موخر کرنے کا فیصلہ کیا، یہ نئے قوانین اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں رہنے والوں کی زندگیوں کو متاثر بننے کا باعث بننے جارہے تھے۔

نئے قوانین کے نفاذ کا موخر کرنے کے علاوہ ان میں سےکم از کم دو ناقابل قبول تجاویز کو مکمل طور پر واپس لے لیا ہے۔ اسرائیل نے تاخیر فیصلہ ان قوانین کے نفاذ سے محض دو روز قبل کیا گیا ہے۔

مجوزہ قوانین میں یہ بھی شامل تھا کہ اگر کوئی غیر ملکی پاسپورٹ رکھنے والا شہری مقبوضہ مغربی کنارے میں رہتے ہوئے مغربی کنارے کے مقامی کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوتا ہو تو اسے 30 دن کے اندر اسرائیلی قابض اتھارٹی کو بتایا ہوگا۔

نیز یہ کہ اسرائیلی وزارت دفاع کا ذیلی شعبہ (COGAT) فلسطینیوں کے ان سول معاملات کو دیکھنے کا ذمہ دار ہو گا۔ تاہم اتوار کے روز ایک نظر ثانی شدہ مسودہ سامنے لایا گیا ہے۔ اس نئے مسودہ قانون میں رشتہ ازدواج سے پہلے کسی کی محبت تک کے معاملات کو اتھارٹی کو بتانا لازم نہیں بتائے گئے۔

اسی طرح پہلے متعارف کرائے گئے مسودہ قانون میں یہ بھ کہا گیا تھا کہ فلسطینیوں میں کسی کی غیر ملکی اہلیہ یا فلسطینی خواتین میں سے کسی کے غیر ملکی شوہر کو ابتدائی طور پر تین یا چھ ماہ کے لیے قیام کی اجازت دی جاسکے گی۔

نیز یہ کہ دوبارہ مغربی کنارے میں آنے سے پہلے انہیں مغربی کنارے سے باہر چھ ماہ گذارنا ہوں گے۔ اب نئے مسودہ میں یہ چھ ماہ مغربی کنارے سے باہر رہنے کی پابندی شامل نہیں کی گئی ہے۔ کیونکہ اس پر اسرائیلی رائیٹس گروپس نے بھی اعتراض کیا تھا۔ اب بھی اسرائیلی رائٹس گروپ ھموکید اب بھی بھی سمجھتا ہے کہ اس سے لگوں کی عائلی زندگی میں خلل ہو گا۔

اس بارے میں ایگزیکٹو دائریکٹر جیسیکا مونٹیل نے کہا ' کچھ نامناسب عنصر مسودہ قانون سے نکالے گئے ہیں مگر اب بھی بنیادی مسئلہ باقی ہے، اس سے ہزاروں اسرائیلی خاندان متاثر ہوں گے اور ان کی زندگیاں متاثر ہوں گی۔'

جیسیکا مونٹیل کے مطابق یہ ڈیموگرافیکل انجینئیرنگ سیاسی وجوہ کی بنیاد پر گئی ہے۔ لیکن اس سے نقصان سب کو ہو گا۔ اس سے قبل جب ماہ فروری میں مسودہ پہلی مرتبہ سامنے لایا گیا تو اسرائیلی گروپ ھموکیڈ نے اسے اسرائیلی سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔

کیونکہ ابتدائی مسودے کے نتیجے میں تعلیمی زندگی پر بھی بہت اثرات مرتب ہوئے ۔ کم از کم ایک سو غیر ملکی لیکچررز اور 150 سٹوڈنٹ کو مغربی کنارے میں رہنے کی دی گئی اجازت اس سے بری طرح متاثر ہونے کا احتمال پیدا ہو گا۔

اب ان مسائل کو نئے مسودہ قانون میں کم کیا گیا ہے۔ نیا قانون 20 اکتوبر 2022 سے دوسال کے لیے آزمائشی بنیادوں پر نافذ العمل ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں