شیرین ابوعاقلہ اسرائیلی فوجی کی گولی کا نشانہ بنی تھیں:صہیونی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے فلسطینی نژاد امریکی صحافیہ شیرین ابوعاقلہ کےاندوہناک قتل کی نئی تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے۔اس میں یہ نتیجہ اخذکیا گیا ہے کہ انھیں ممکنہ طور پرایک اسرائیلی فوجی نے غیرارادی طور پر گولی مار دی تھی لیکن انھیں جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا تھا۔

پیرکوشائع ہونے والی تحقیقات سے متعلق ایک بیان میں کہا گیا ہے:’’اس بات کا قوی امکان ہے کہ محترمہ ابوعاقلہ حادثاتی طور پراسرائیلی فائرنگ کا نشانہ بن گئیں۔اسرائیلی فوجیوں نے مسلح فلسطینی کے طور پرشناخت کیے گئے مشتبہ افرادکی طرف گولیاں چلائی تھیں‘‘۔

اس تحقیقاتی رپورٹ میں بھی صہیونی فوجیوں کو شک کا فائدہ دینے کی کوشش کی گئی ہے اورکہا گیا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ مقتولہ صحافیہ کو فلسطینی مسلح افراد نے نشانہ بنایا ہو۔

واضح رہے کہ قبل ازیں امریکی حکام نے اپنی تحقیقات میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اسرائیلی پوزیشنوں کی طرف سے فائرنگ ہی سے الجزیرہ کی صحافیہ شیرین ابوعاقلہ کی موت واقع ہوئی تھی لیکن ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ اس بات کایقین کرنے کی کوئی وجہ نہیں کہ ان پر فائرنگ جان بوجھ کر کی گئی تھی۔

الجزیرہ ٹیلی ویژن نیٹ ورک کی معروف نامہ نگارابوعاقلہ کو فلسطینی قصبے جینین میں 11مئی کو اسرائیلی فوج کی چھاپا مارکارروائی کے دوران میں گولی مارکرموت کی نیند سلادیا گیا تھا۔فلسطینی قیادت نے اسرائیلی فوج پر صحافیہ کوقتل کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔

ویڈیوفوٹیج میں 51 سالہ ابوعاقلہ کوجیکٹ پہنے دکھایا گیا تھا۔اس پر’’پریس‘‘ کا لفظ واضح طورپرنظرآ رہا تھا لیکن اسرائیل نے واقعہ کے فوری بعد ان کے قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔فلسطینی اتھارٹی نے اپنی تحقیقات میں کہا تھا کہ انھیں ایک اسرائیلی فوجی نے’’جان بوجھ کر قتل‘‘ کرنے کے لیے گولی ماری تھی۔

واضح رہے کہ فلسطینی اتھارٹی اورالجزیرہ نے اسرائیلی فوج پرالزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے ابوعاقلہ کوجان بوجھ کرنشانہ بنایا تھا۔امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے فلسطینی عینی شاہدین بشمول اپنےعملہ کے بیانات کی روشنی میں کہا تھا کہ اسرائیلی فورسزہی نے شیرین ابوعاقلہ پرگولی چلائی تھی جس سے ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔

اس کے بعد امریکی نشریاتی ادارے سی این این، نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کی تحقیقات میں بھی یہی نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ فلسطینی نژاد صحافیہ کو اسرائیلی فوج نے قتل کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں