شام میں زیر تعمیر مکان میں بارودی سرنگ پھٹنے سے 4 بچے ہلاک

بارودی سرنگوں سے روزانہ پانچ افراد ہلاک یا زخمی ہو رہے ہیں: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے شمال مغربی علاقے میں ایک مکان کے اندر بارودی سرنگ پھٹنے سے چار بہن بھائی جان بحق ہو گئے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے "اے ایف پی" نے اہل خانہ اور میڈیکل ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ بارودی سرنگ جنگ کی باقیات کے طور پر کسی طرح رہائشی مکان میں موجود تھی۔

شام میں مارچ 2011 سے جاری جنگ میں کے بعد باقی رہنے والے دھماکہ خیر مواد بشمول بارودی سرنگوں سے ہلاکتوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ محاذ جنگ پر سکون کے وقت میں بھی اس طرح کے واقعات میں ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق روزانہ ان دھماکوں سے پانچ افراد جاں بحق یا زخمی ہو رہے ہیں۔

متاثرہ خاندان حال ہی میں ادلب کے شمال مشرق میں واقع قصبہ کے اس گھر میں منتقل ہوا تھا۔

متاثرہ خاندان سے تعلق رکھن والے ابو دحام المحمد نامی شخص نے بتایا کہ وہ دو ہفتے قبل ہی اس گھر میں منتقل ہوئے تھے۔ اس کے چار بھتیجے، تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہلاک ہو چکا ہے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے ہلاکتوں کی تصدیق کر دی۔

یاد رہے اقوام متحدہ کی بارودی سرنگوں سے متعلق ادارے نے 2015 میں بتایا تھا کہ 15 ہزار افراد بارودی سرنگوں کی زد میں آ کر متاثر ہو چکے۔ اس تعداد کے تناظر میں یومیہ 5 افراد ان سرنگوں کی زد میں آئے۔

شام میں جاری یہ جنگ 50 لاکھ افراد کی جان لے چکی ہے۔ اس مشکل اور پیچیدہ جنگ کے دوران یہاں بارودی سرنگوں کے خطرے سے نمٹنا آسان نہیں۔ یہاں جنگ میں شامل ہر فریق نے بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں۔

زرعی زمینوں اور رہائشی علاقوں میں بچھائی گئی یہ بارودی سرنگیں کسانوں اور راہگیروں کے لئیے ایک مستقل خطرہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں