ایران کے جوہری معاہدے کو روکنے میں کامیابی کا دعویٰ نہیں کر سکتے: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی رابطہ کار جوزپ بوریل کی طرف سے جوہری مذاکرات سے متعلق منفی اشارے ظاہر کیے جانے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم یائر لپیڈ نے کہا ہے کہ یہ جاننا ابھی قبل از وقت ہے کہ آیا ان کا ملک جوہری معاہدے کو روکنے میں واقعی کامیاب ہوا ہے یا نہیں؟

لیکن انہوں نے منگل کو "نیواتیم" ایئر بیس کے دورے کے دوران اپنی تقریر میں زور دیا کہ اسرائیل کسی بھی خطرے اور کسی بھی منظر نامے کے لیے تیار ہے۔

اسرائیل کے ہاتھ بہت لمبے ہیں

انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے ہمیں دھمکیاں دینے کی کوششیں جاری رکھی تو وہ اسرائیل کی پہنچ اور اس کی صلاحیتوں کا خود اندازہ کر لے گا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "تل ابیب دہشت گردی کے خلاف اور اسے نقصان پہنچانے والوں کے خلاف تمام محاذوں پر کام جاری رکھے گا"۔

'معاہدے کے پابند نہیں'

اس کے علاوہ لپیڈ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کے ملک کو ایران کے خلاف کارروائی کرنے کی آزادی ہے اور وہ اس کے ساتھ کسی معاہدے کا پابند نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسا کہ پہلے میرے اور امریکی صدر جو بائیڈن کے درمیان طے پایا تھا، ہمارے پاس مکمل صوابدید ہے کہ تہران کے جوہری خطرہ بننے کے امکان کو روکنے کے لیے جو بھی مناسب ہو وہ کریں۔

ویانا میں ہونے والے جوہری مذاکرات
ویانا میں ہونے والے جوہری مذاکرات

لیپڈ نے پہلے اشارہ کیا تھا کہ اسرائیلی حکام نے جوہری معاہدے پر دستخط کو روکنے کے لیے ایک بھرپور مہم چلائی، جسے انھوں نے تہران کے ساتھ خطرناک قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مؤخر الذکر عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکی انتظامیہ نے جوہری معاہدے کے متن پر ان کے ملک کے تبصروں کو مدنظر رکھا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا نے کل واشنگٹن کا سفر کیا تاکہ امریکی انتظامیہ کو اسرائیلی موقف کی دوبارہ وضاحت کی جائے اور جوہری معاہدے میں موجود خطرات پر توجہ مرکوز کی جائے۔

گذشتہ چند دنوں کے دوران اسرائیل نے امریکی حکام کے ساتھ اپنی ملاقاتیں تیز کر دی ہیں۔ دوسری طرف جوہری مذاکرات حتمی مرحلے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں