اسرائیلی وزیر اعظم نے ابو عاقلہ کے قاتل کے خلاف کارروائی سے انکار کر دیا

اپنے فوجی کے ساتھ کھڑے ہیں، کسی کے کہنے پر طریقہ کار تبدیل نہیں کریں گے: یائر لیپڈ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی وزیر اعظم یائر لیپڈ نے فلسطینی نژاد امریکی اور الجزیرہ سے وابستہ خاتون صحافی شیریں ابو عاقلہ پر فائرنگ کر کے قتل کرنے والے اسرائیلی فوجی کے خلاف کیس چلانے کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ یائر لیپڈ کا دو ٹوک کہنا ہے کہ 'اسرائیلی حکومت اور قوم اپنے فوجیوں کے ساتھ ہے۔'

اسرائیلی وزیراعظم نے پوری وضاحت کے ساتھ کہا 'یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم صرف اس بات پراپنے رولز کو تبدیل کریں کہ اس طرح کا مطالبہ بیرون ملک سے آیا ہے۔ '

اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا 'میں اجازت نہیں دو ں گا کہ فوج کا جوسپاہی دہشت گردوں کے سامنے اپنی حفاظت کے لیے کھڑا تھا اس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے، کوئی بھی ہمیں قواعد تبدیل کرنے کے حوالے ڈکٹیشن نہیں دے سکتا ہے۔'

اس سے قبل امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان وینڈت پٹیل نے شیریں ابو عاقلہ کی ہلاکت کے بارے میں اسرائیلی فوج کی دوسری تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر آنے پر کہا تھا کہ' ہم اپنے اسرائیلی پارٹنرز پر دباو جاری رکھیں گے کہ وہ اپنی فوجی پالیسی اور پریکٹس پر نظرثانی کریں تاکہ سویلین کے لیے ایسے خطرات کم ہوں ۔'

واضح رہے اسرائیلی فوج نے جنین کے پناہ گزیں کیمپ کے مکینوں کے خلاف کارروائی کے دوران شیریں ابو عاقلہ الجزیرہ کے لیے اس کوریج کرتے ہوئے ہلاک کر دیا تھا۔ شیریں ابو عاقلہ نے بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی تھی۔ اس جیکٹ پر اس کے میڈیا ورکر ہونے کی واضح نشاندہی تھی۔ نیز شیریں ابو عاقلہ نے سر پر ہیلمٹ بھی پہن رکھا تھا، جو اسے پناہ گزین اور اسرائیلی فوج کے زیر ہدف فلسطینیوں سے ممتاز کرتا تھا۔

مگر اسرائیلی فوجی نے اس کے باوجود شیریں ابو عاقلہ کے سر کا نشانہ لے کر اسے گولی مار دی تھی، جبکہ اس کے ساتھی کیمرہ مین کو بھی زخمی کر دیا تھا۔ اس امریکی شہریت کی حامل خاتون صحافی کی ہلاکت پر کافی شور ہوا تھا۔ اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے نے اس بارے میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں اسرائیلی فوج کو اس بے گناہ کی موت کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

اسرائیلی فوج نے اپنے نسبتا دیر سے کی گئی تحقیقات میں اپنے فائرنگ کرنے والے فوجیوں کو بچانے کی کوشش کی تھی اور کہا تھا 'ابو عاقلہ فلسطینیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئی ہے'۔ مگر اسرائیلی رپورٹ کو سب نے مسترد کر دیا تھا۔

تاہم اب کئی ماہ گذرنے کے بعد اسرائیلی فوج نے ایک نئی تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوجی نے جان بوجھ کر ابو عاقلہ کو نشانہ نہیں بنایا ہے۔ لیکن یہ بھی وزیر اعظم یائر لیپڈ نے اسرائیلی فوج کی ایک تقریب میں خطاب کے دوران واضح کر دیا ہے اسرائیلی حکومت اور قوم اپنے اس فوجی کے ساتھ کھڑی ہے۔

یائر لیپڈ نے اسرائیلی فوج کی فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں کارروائیوں کے اپنے طریقہ کار کو بدلنے سے بھی انکار کر دیا کہ اس سے عام شہری فوج کی گولیوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ جیسا کہ امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنی پریس بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ امریکہ اسرائیل پر دباو جاری رکھے گا کہ وہ اپنی کارروائیوں کا طریقہ کار اور قواعد بدلے۔

امریکہ ہی کے ایک اور ترجمان نیڈ پرائس نے بھی اسرائیل پر زور دیا ہے کہ اس واقعے کے ذمہ دار کا احتساب ہونا چاہیے۔ تاکہ اس طرح کے واقعات بار بار نہ ہو سکیں۔ دوسری جانب الجزیرہ ٹی وی نے اسرائیلی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اس رپورٹ کی مذمت ہے۔ الجزیرہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ایک غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں