آلات موسیقی بجانے کی ماہر سعودی لڑکی نے نابینا پن کی معذوری کو کیسے شکست دی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بینائی سے محروم سعودی عرب کی ریتاج محمد الزھرانی نے اس چیلنج کو ایندھن کے طور پر استعمال کیا۔ تاکہ وہ اپنی پیدائش کے بعد سے جس تاریکی میں رہ رہی ہے اس پر قابو پا سکے۔ ایک سعودی لڑکی جو اپنی پیدائش کے بعد سے اپنی بینائی کھو بیٹھی وہ کی بورڈ بجانے سمیت کئی آلات موسیقی بجاتی اوربانسری بجانے کے ساتھ وہ میوزیکل نوٹ بھی پڑھ سکتی ہے۔

ننھی ریتاج محمد الزہرانی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اپنی کہانی سناتے ہوئے بتایا میں پیدائشی نابینا ہوں،میری آنکھوں میں روشنی نہیں،ر اب میری عمر 14 سال ہے لیکن یہ معذوری مجھے اپنی صلاحیتوں کو جاری رکھنے اور ترقی دینے سے نہ روک سکی۔

ریتاج نے کہا کہ اسے بچپن سے ہی ساز اور بانسری بجانے کا شوق ہے اور اس نے اپنے اس شوق کا زیادہ خیال رکھنا شروع کیا۔ تقریباً چار سال سے اس کی نشوونما پر کام کر رہی ہے اور موسیقی کے آلات بجانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وہ خلیجی ممالک اور دوسرے ملکوں میں گائے جانے والے گانوں کی موسیقی کی دھند کی نقل کرسکتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں نابینا لڑکی نے کہا کہ "میں نے کھیل جیسے چھوٹے آلات پر کی بورڈ اور بانسری بجانا شروع کی یہاں تک کہ میری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا اور میں نے یاماہا 700 کی بورڈ حاصل کر لیا۔ میں نے یوٹیوب ویڈیوز کے ذریعے بجانا سیکھا اور کبھی کسی میوزک انسٹی ٹیوٹ نہیں گئی۔ اس میں میرے والدین نے میرے ساتھ تعاون کیا۔

اس نے نشاندہی کی کہ اسے جس مشکل کا سامنا کرنا پڑا ان میں سے ایک لفظی نوٹ پڑھنا تھا، کیونکہ موسیقی دو چیزوں پر منحصر ہے جو کہ موسیقی کے نوٹ کو سننا اور پڑھنا ہے۔

میرے پاس ڈرائنگ اور شاعری کا ہنر بھی ہے اور میرے مستقبل کے عزائم ہیں کہ میں اپنے کھیل کو زیادہ سے زیادہ ترقی کروں تاکہ ہر کوئی میرا کھیل دیکھ اور سن سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں