اردنی کامیڈین کی انسٹاگرام پر لائیو نشریات کے دوران خودکشی کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اردنی کامیڈین "امیس الغول" نے "انسٹاگرام" کے پلیٹ فارم پر براہ راست نشر ہونے والے فیچر کے ذریعے بڑی مقدار میں دوائی نگل کر اور پھر سافٹ ڈرنکس پی کر براہ راست اپنے فالورز کے سامنے خودکشی کی کوشش کی لیکن ان کی یہ کوشش ناکام رہی۔

اردنی کامیڈین "الغول" ایک ویڈیو میں نظر آرہے ۔انہوں نے بہت سی مختلف دوائیں نگل لیں اور متعدد خوراکیں لے کر اپنی زندگی ختم کرنے کی کوشش کی۔

"الغول" نے دو ڈبوں میں سے آدھے سے زیادہ دوا لینے کے بعد ایک سافٹ ڈرنک پیا، جس کا مقصد موت سے ہم کنار ہونا تھا۔

"الغول" نے براہ راست نشریات کے دوران اپنے فالورزکو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ "وہ نہیں مرے گا وہ پہلے ہی یوکرین میں چوتھی منزل سے گر چکا ہے اور نہیں مرا۔"

مشہور اردنی کامیڈین براہ راست نشریات کے دوران کلمہ شہادت کو ایک سے زیادہ بار دہراتے رہے اور یہ سلسلہ 3 منٹ سے زائد جاری رہا۔

سابق وزیر سے شکایت

اردنی سکیورٹی ذرائع نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو تصدیق کی کہ پبلک سکیورٹی اہلکار اردنی کامیڈین کے پاس پہنچے اور وہ خیریت سے ہیں۔ ذرائع نے مزید کہا کہ "الغول" کو اس کی صحت کی جانچ کے لیے اسپتال بھیجا جائے گا اور پھر اس کے بیانات سنیں گے۔

اردنی صحافی احمد ابو جعفرجو مزاح نگار "الغول" کے دوست ہیں، نے ان کی خودکشی کی کوشش کی وجوہات کے بارے میں بات کی۔

ابو جعفر نے اپنے فیس بک پیج پر ایک پوسٹ میں لکھا: "کئی سالوں سے ایمس الغول کے بارے میں اپنے مضبوط علم کی وجہ سےمیں تصدیق کرتا ہوں کہ اس اقدام کا مقصد فالورز کی تعداد بڑھانا نہیں ہے کیونکہ اسے سوشل میڈیا یا اس کی کہانیوں کا جنون نہیں ہے اور وہ ایسی کسی چیز کی خواہش نہیں رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا "امیس کو مسائل اور نفسیاتی دباؤ کا سامنا جس نے اسے اس صورتحال تک پہنچایا۔

ابو جعفر نے کہا کہ سابق وزیر محمد نوح القضاۃ نے "الغول" کے خلاف عدالتی شکایت درج کرائی اور حال ہی میں ان کے خلاف ایک سکیورٹی سرکلر جاری کیا گیا،جس کے بعد الغول کی صحت متاثر ہوئی تھی۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کی مانیٹرنگ کے مطابق یہ پتہ چلا ہے کہ اردنی قانون خودکشی کی کوشش کرنے والے کو 6 ماہ سے زیادہ قید اور 100 دینار سے زیادہ جرمانہ یا ان دو سزاؤں میں سے ایک سزا دیتا ہے۔ یہ سزا تعزیرات کے ترمیمی قانون کی دفعہ 339 کے مطابق دی جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں