اسرائیل کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والا خود کش ڈرون تیار کر لیا: ایران

'عرش-2' ڈرون حیفا اور تل ابیب کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے: جنرل حیدری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا تیار کردہ 'عرش-2' ڈرون طیارہ اسرائیل کے شہروں تل ابیب اور حیفا کو کامیابی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی مہر نیوز نے ایران کی بری فوج کے سربراہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران نے ایک لمبے دورانیے تک پرواز کرنے والا خودکش جہاز تیار کیا ہے جس کی مدد سے تل ابیب اور حیفا تک کامیابی سے نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

ایرانی فوج کے بریگیڈئر جنرل کیومرث حیدری کے مطابق یہ ڈرون طیارہ عرش 1 کو بہتر بنا کر ڈویلپ کیا گیا ہے اسی لیے اس ڈرون کا نام عرش 2 رکھا گیا ہے۔

ایرانی فوج نے جولائی میں مسلح ڈرون لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بحری جہازوں اور آبدوزوں کی پہلی قسم کی رونمائی کی تھی۔ تب امریکی صدر جو بائیڈن مشرق اوسط کے دورے پر تھے۔

مئی میں ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ملک کے مغرب میں زغروس پہاڑی سلسلے کے دامن میں ڈرونز کے لیے ایک فضائی اڈے کی فوٹیج نشر کی تھی۔ ایران کے روایتی دشمن امریکا اور اسرائیل اس سے قبل اس پر یہ الزام عاید کر چکے ہیں کہ وہ خلیج میں امریکی افواج اور اسرائیل سے منسلک بحری جہازوں پر حملے کے لیے ڈرون اور میزائل استعمال کر رہا ہے۔

واشنگٹن نے جولائی میں کہا تھا کہ ایران یوکرین کے خلاف جنگ میں مدد کے لیے روس کو "سیکڑوں ڈرون" بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے مگر تہران نے اس الزام کو "بے بنیاد" قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں