جوہری ایران

ایران نومبر سے قبل جوہری معاہدہ تک نہیں پہنچ سکتا: اسرائیلی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حال ہی میں سامنے آنے والے ایسے اشاروں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ جلد ہی نہیں ہو گا۔ اب اس کی تصدیق اتوار کے روز ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے بھی کردی ہے۔

عہدیدار نے بتایا اسرائیل کو یقین نہیں کہ گروپ فائیو پلس ون اور ایران کے درمیان جوہری معاہدہ پر دستخط امریکی کانگریس کے وسط مدتی الیکشن سے قبل ہو سکیں گے۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق صہیونی عہدیدار نے کہا اگر امریکہ ایران کے مطالبات تسلیم نہیں کرتا اور ایران امریکی مطالبات کا جواب نہیں دیتا اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی اپنی تحقیقات بند نہیں کرتی تو کسی صورت معاہدہ کی طرف واپسی نہیں ہوگی۔

اضافی رعائتیں

اسرائیلی عہدیدار نے کہا ایران کا مغرب سے اضافی رعایتوں کے بغیر جوہری معاہدے کی طرف واپسی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی کو توقع نہیں ہے کہ ایران کسی نئے معاہدے پر راضی ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا مغرب پر لازم ہے کہ نیا معاہدہ قبول کرنے سے پہلے ایران پر دباؤ بڑھائے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کو یہ سمجھانے کیلئے کہ اب وقت اس کے ساتھ نہیں بہت سی چیزیں موجود ہیں۔

اسرائیلی سرگرمیاں

یاد رہے اسرائیل نے گزشتہ ہفتوں اور ماضی کے دنوں میں امریکی عہدیداروں کے ساتھ ملاقاتیں تیز کردی ہیں تو دوسری طرف جوہری مذاکرات بھی اپنے آخری مرحلے کے قریب پہنچتے جا رہے ہیں۔

کچھ روز قبل تک جوہری معاہدہ تک پہنچنے کی امیدیں بہت کم ہوگئی تھیں بالخصوص اس وقت جب دو روز قبل مذاکرات کے یورپی رابطہ کار جوزف بوریل نے کہا تھا کہ مذاکرات کے دونوں فریق آج پہلے کے مقابلہ میں معاہدہ پر اتفاق سے زیادہ دور ہوگئے ہیں۔

یہ صورتحال 2015 کے دستخط شدہ جوہری معاہدہ کی بحالی کیلئے مجوزہ یورپی متن پر ایرانی رد عمل کی وجہ سے بھی پیدا ہوئی تھی۔ یاد رہے 2015 کے معاہدہ سے امریکہ 2018 میں دستبردار ہوگیا تھا۔

یاد رہے یورپی یونین نے 8 اگست 2022 میں اقدام اٹھایا۔ ویانا میں اپریل 2021 کو شروع ہونے والے طویل مذاکرات اور دوروں کے بعد اس معاہدہ کو بحال کرنے کی مشکلات پر قابو پاتے ہوتے حتمی متن جاری کیا گیا تھا۔

جوزف بوریل کو وسط اگست میں پہلا ایرانی رد عمل ملا۔ اس کے بعد امریکی رد عمل اور ایرانی مطالبات سامنے آئے۔ آخر میں پھر تہران کا رد عمل آیا جس نے مذاکرات کے دوسرے دور کو پھر ہوا میں معلق کر کے رکھ دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں