مفتیِ اعظم مصرنے ٹیلی ویژن پیش کاراہلیہ کے قاتل جج کو پھانسی دینے کی منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مصر کے مفتیِ اعظم نے جج ایمن حجاج اوران کے ایک شریک مجرم کو پھانسی دینے کی منظوری دے دی ہے۔عدالت نے انھیں اگست میں حجاج کی ٹیلی ویژن پیش کار اہلیہ شیماء جمال کے قتل کے جرم میں قصور وار قرار دے کرسزائے موت سنائی تھی۔

حجاج اور ان کے ساتھی تاجرحسین الغرابلی کو ملک کی اعلیٰ مذہبی اتھارٹی کی جانب سے عدالتی سزا کی منظوری کے بعد تختہ دارپرلٹکا دیا جائے گا۔واضح رہے کہ مفتیِ اعظم سزائے موت کے فیصلوں پر حتمی رائے دیتے ہیں اور انھیں ایسے مقدمات بھیجنا قانون کے مطابق فیصلے پر عمل درآمد سے قبل ایک رسمی کارروائی ہے۔

عدالت نے ان دونوں کوجون میں حجاج کی اہلیہ شیماءجمال کے قتل کا مجرم قرار دیا تھا۔مقتولہ جیزہ کے ایل ٹی سی ٹی وی پر ایک شو پیش کیا کرتی تھیں۔مقتولہ کی لاش الغرابلی کی خفیہ اطلاع کے بعد ایک ولا سے ملی تھی۔اس نے اس جرم میں اپنے کردار کا اعتراف کیا تھا۔حجاج نے اس سے تین ہفتے قبل اپنی بیوی کے لاپتا ہونے کی اطلاع دی تھی۔

استغاثہ کے ایک بیان کے مطابق حقیقت میں جج ایمن اپنی اہلیہ کو لالچ دے کر دوردراز واقع ولا میں لے گیا تھا جہاں وہ پہلے ہی اس کی قبرکھود چکا تھا۔اس کے بعد اس نے الغرابلی کی مدد سے اس کے سر پربندوق کا بٹ مارا تھا اور پھراس کا گلا گھونٹ کر ہمیشہ کے لیے موت کی نیند سلا دیا تھا۔

انھوں نے شیماء کی لاش کو قبرمیں دفن کرنے کے بعد اس پرخاردارمواد ڈال دیا تھا تاکہ اس کو فرانزک ماہرین کے لیے ناقابل شناخت بنایا جاسکے۔استغاثہ کا کہنا ہے کہ شیماء جمال نے اپنے شوہر کو بلیک میل کیا تھا جس کی وجہ سے وہ اس کے قتل کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔

ایمن حجاج نے حکام کے روبرو اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کی بیوی نے مبینہ طور پران پر چاقو سے حملہ کیا تھا اور اس کے بعد انھوں نے اپنے دفاع میں اسے قتل کیا تھا۔

تاہم استغاثہ نے نوٹ کیا کہ جرم کے مقام سے کوئی چاقو نہیں ملا تھا اورحجاج نے اپنے اعترافی بیان میں بھی شیماء کے حملے میں اپنے دفاع کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔انھوں نے یہ بھی نشان دہی کی کہ الغرابلی کے اعترافِ جُرم سے حجاج کے اپنے دفاع کے دعوے کی تصدیق نہیں ہوتی۔

دونوں مجرم اپنی سزا کے خلاف مصر کی اعلیٰ عدالت میں 60 دن کے اندراپیل دائر کرسکتے ہیں۔اس مقدمے کی تفصیل کے مطابق جج ایمن حجاج نے اپنی بیوی،42 سالہ ٹیلی ویژن پیش کارشیماء جمال کا چہرہ نائٹرک ایسڈ کا استعمال کرتے ہوئے جلا دیا تھا۔

جون کے اوائل میں ایمن حجاج نے،جو مبیّنہ طور پر ریاستی کونسل کی نائب صدر بھی تھے، یہ اطلاع دی تھی کہ ان کی اہلیہ شیماء جمال لاپتا ہوگئی ہیں اورانھیں آخری بار جیزہ کی گورنری میں واقع 6 اکتوبرسٹی میں ایک مال کے سامنے دیکھا گیا تھا۔

مگران کی بیوی کی گم شدگی کا معمااس وقت حل ہوگیا جب ایک مبیّنہ گواہ نے آگے بڑھ کر حکام کو بتایا کہ شیماءجمال کو قتل کیا جاچکا ہے اوراس کی لاش کہاں دفن ہے؟

مصر میں قتل کی یہ واردات خواتین کے ہائی پروفائل قتلوں کے سلسلے کی کڑی تھی۔شیماءجمال کی لاش برآمد ہونے کی خبر نے مصریوں میں اشتعال پیدا کردیا تھا۔بالخصوص جون کے اسی ہفتے میں یونیورسٹی ایک طالبہ کے دن دہاڑے قتل کے جرم کے بعد لوگوں میں سخت غم وغصہ پایا جارہا تھا۔اکیس سالہ مصری طالبہ نائیرہ اشرف کو اس کی جامعہ کے داخلی دروازے کے سامنے ایک شخص نے قتل کردیا تھا۔اس طالبہ نے قاتل کی شادی کی تجویزمسترد کردی تھی۔

19 جون کو قاہرہ کے شمال میں واقع منصورہ میں کالج کی طالبہ نائیرہ اشرف پرقاتلانہ حملے کی ایک ویڈیوکی سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پرتشہیرکی گئی تھی۔

اس انتہائی تشہیر شدہ مقدمے میں ملزم محمدعادل نےعدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا اور عدالت نے اسے سزائے موت سنائی تھی۔فوجداری عدالت نے یہ بھی قراردیاتھا کہ اس کو پھانسی دینے کی کارروائی دوسروں کے لیے عبرت کا ساماں بنانے کی غرض سےٹیلی ویژن پر براہِ راست نشر کی جائے۔

اگست کے اوائل میں قاہرہ کے شمال میں واقع شہر زغزیغ میں ایک اورطالبہ کو اسی طرح کے حالات میں قتل کر دیا گیا تھا۔اس کی شناخت صرف اس کے پہلے نام سلمیٰ سے ہوئی تھی۔استغاثہ کے مطابق ملزم نے مقتولہ پر چاقو کے متعدد وار کیے تھے۔اس کا بھی قصورصرف یہ تھا کہ اس نے ملزم کی راہ ورسم بڑھانے کی پیش قدمی کو مسترد کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں