اسرائیل کے ساتھ امارات اور بحرین کے تعلقات کے دو سال

کاروباری شخصیات اور سفیروں کی طرف سے معاہدہ ابراہم کی تحسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل ، بحرین اور متحدہ امارات کے درمیان تجارتی شعبے میں گذرنے والے ایک اور اچھے اور ریکارڈ کامیابی کے سال پر کاروباری شخصیات اور سفرا کی طرف سے تینوں کے ہاں سراہا گیا ہے۔ عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں ابراہم معاہدے کے بعد دوسال کے عرصے میں غیر معمولی پیش رفت کی ہے۔

اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات کے علاوہ دیگر شعبوں میں روابط میں بہت اضافہ ہوگیا ہے۔ اس سلسلے میں ابراہم معاہدے کی بنیاد پر تعلقات میں بہتری کے دوبرسوں میں اسرائیل کے حق میں ایک بڑاسنگ میل سمجھا جارہا ہے۔

اس موقع پر ماہرین نے 'العربیہ ' سے بات کرتے ہوئے یروشلم کی ڈپٹی مئیر اور اسرائیلی امارات بزنس کونسل کے شریک بانی فلور حسن ناحوم نے کہا' دو برسوں کے دوران امارات اسرائیل کا بہت تیزی سے آگے بڑھنے والا ایک اہم تجارتی شراکت دار بن گیا ہے۔

دونوں کے درمیان ایوی ایشن ، توانائی، ٹیکنالوجی اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون اور تجارت فروغ پا رہی ہے۔ ناحوم کو امید ہے کہ اگلے ایک سال کے دوران یہ تجارتی حجم دوگنا ہو جائے گا۔ اس طرح دو طرفہ تجارتی تعلقات کے پہلے تین برسوں میں تجارتی حجم ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر سے بڑھ کر تین ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔

اسرائیلی خاتون تاجر ناحوم نے اپنے آپ کو اس نئے دور میں ہونے پر خوش قسمت قرار دیا کہ معاہدہ ابراہم کے بعد خطے میں تعلقات اور استحکام دیکھ رہی ہیں۔

واضح رہے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے 13 اگست 2020 کو دو طرفہ تعلقات کا اعلان کیا تھا۔ جبکہ بحرین نے پیروی کرتے ہوئے 11 ستمبر کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا اعلان کر دیا تھا۔ تین دن بعد امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ ابراہم پر دستخط کیے جس میں تعلقات اور استحکام کے لیے کوششوں کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں