لبنان میں اپنی رقم نکلوانے کے لیے ’بینک ڈکیتیوں‘ کا رواج چل نکلا، جمعہ کو پانچ ڈاکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان میں صارفین نے اپنی ہی رقم نکالنے کے لیے پانچ بینکوں پر حملے کیے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جمعے کو لبنانی صارفین بینکوں کی جانب سے منجمد کی گئی اپنی جمع پونجی کو نکالنے کے لیے حملہ آور ہوئے۔

لبنان میں یہ بینک ’ڈکیتیوں‘ کی تازہ ترین واردات ہے جہاں بدحالی کی شکار معیشت کے باعث شہریوں کو دو وقت کی روٹی خریدنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

گذشتہ دو برسوں میں لبنان کی معیشت تنزلی کا شکار ہوئی اور کرنسی کی قدر بری طرح گرنے کے بعد بینکوں نے کھاتہ داروں پر رقم نکالنے کے لیے کڑی شرائط عائد کیں۔

پچھلے ہفتے کے دوران کھاتہ داروں نے اپنی رقم نکالنے کے لیے سات بینکوں کی برانچوں پر دھاوا بولا تھا۔

لبنان میں بینکوں کی ایسوسی ایشن نے پیر سے تین دن کے لیے کام بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بینکوں پر کھاتہ داروں کے دھاوا بولنے کے واقعات میں اضافے کو دیکھتے ہوئے وزیر داخلہ بسام مالاوی نے ہنگامی اجلاس طلب کیا۔

اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ’اپنا حق اس طریقے سے واپس لینے سے سسٹم ٹوٹ پھوٹ سکتا ہے جس کے نتیجے میں دیگر کھاتہ دار اپنا حق کھو دیں گے۔‘

بدھ کو بیروت میں ایک خاتون نے کھلونا پستول سے بینک کے عملے کو یرغمال بنا کر اپنی رقم نکلوائی تھی جس کے بعد کئی صارفین نے یہی طریقہ اختیار کیا۔

اے ایف پی کے نامہ نگار اور ایک سکیورٹی ذریعے کے مطابق جمعے کو بیروت میں تین جبکہ جنوبی لبنان میں دو بینک ’ڈکیتی‘ کے واقعات رپورٹ کیے گئے۔

ایک واقعے میں جنوبی قصبے غازیہ میں ایک شخص نے پستول اور ایندھن سے بھرے جیری کین کے ساتھ بینک میں گھس کر اپنی رقم واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔

بینک کے سکیورٹی گارڈ نے بتایا کہ مذکورہ شخص نے ایندھن سے بھرا جیریکین فرش پر خالی کیا اور اپنے اکاؤنٹ میں موجود رقم واپس مانگی۔

بینک سے 19 ہزار ڈالر رقم لے کر نکلنے والے ’ڈکیت‘ کو پولیس نے حراست میں لیا تاہم کچھ دیر بعد ہی اس کی حمایت میں ہجوم سڑک پر آ گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں