چار برسوں میں اسرائیل کے پانچویں الیکشن کی مہم کا آغاز

اس مرتبہ عرب جماعتیں منقسم اور یہودی دایاں بازو نتین یاھو کی قیادت میں متحد دکھائی دیتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

اسرائیل میں ممکنہ طور پر امسال نومبر میں الیکشن ہو رہے ہیں۔ گذشتہ چار برسوں کے دوران سیاسی عدم استحکام کی شکار صہیونی ریاست میں یہ پانچویں انتخابات ہوں گے۔

اس تناظر میں انتخابی ماحول اور اسرائیل کے سیاسی حالات پر نظر ڈالیں تو ایک طرف عرب جماعتوں کی فہرست منتشر ہے اور دوسری طرف اپوزیشن رہنما بنجمن نیتن یاھو کے پیچھے تمام دائیں بازو کی یہودی پارٹیاں متحد ہو گئی ہیں، اور اب یہ اتحاد صہیونی ریاست کی قیادت کا خواہاں ہے۔

چار سال میں پانچویں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے جمعرات کو سیاسی جماعتوں نے اپنے امیدواروں کی حتمی فہرستیں جاری کر دی ہیں۔ نام سامنے آنے سے واضح ہو گیا کہ چار عرب جماعتوں کے اتحاد ’’جوائنٹ لسٹ‘‘ کا خاتمہ ہو گیا اور اب یہ عرب جماعتیں الگ الگ شناخت سے انتخابات میں جائیں گی۔

اس جوائنٹ لسٹ میں ڈیموکریٹک فرنٹ فار پیس اینڈ ایکویلیٹی کی قیادت ایمن عودہ کر رہے، نیشنل ڈیموکریٹنگ گیدرنگ کے سربراہ سامی ابو شحادہ تھے۔ بزعم خود اخوان کے نمائندے منصور عباس کے زیر سربراہی یونائیٹڈ عرب لسٹ آتی تھی۔ احمد الطیبی عرب موومنٹ فار چینج کے سربراہ تھے۔

عرب جماعتوں کا یہ اتحاد اب بکھر چکا ہے۔ ڈیموکریٹک فرنٹ اور عرب موومنٹ فار چینج اس وقت جوائنٹ لسٹ میں شامل ہیں اور نیشنل ڈیموکریٹک گیدرنگ اور یونائیٹڈ عرب لسٹ حکومتی اتحاد میں جا چکی ہیں۔ گویا یہ چار جماعتی اتحاد اب دو حصوں میں منقسم ہے۔

پارلیمان تک نہ پہنچنے کا خدشہ

اسرائیل کے انتخابات میں عرب ووٹرز کی شرکت کمزور رہنے کے خدشہ اور عرب جماعتوں کے اتحاد ’’جوائنٹ لسٹ‘‘ کے منتشر ہونے کے باعث صہیونی پارلیمنٹ میں عرب نمائندگی ختم ہونے یا انتہائی کم ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔ بکھرے ووٹوں کے باعث اس مرتبہ اسرائیلی کنیسٹ کی تاریخ میں عرب ارکان کی موجودگی سب سے کم ہو سکتی ہے۔

رائے عامہ کے تمام حالیہ جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل میں مقیم عرب ووٹرز میں سے ووٹ ڈالنے والوں کی شرح 40 فیصد سے زیادہ نہیں بڑھے گی۔

نفتالی بینیٹ منصور عباس کے ہمراہ
نفتالی بینیٹ منصور عباس کے ہمراہ

عرب ووٹرز کے الیکشن میں ووٹ دینے کی اس کم شرح کا مطلب ہے کہ اگر الیکشن میں نتائج درست سامنے آتے ہیں تو تین عرب جماعتوں کی ضمانتیں ضبط ہونے کا خطرہ ہے۔ خاص طور پر یہودی ووٹرز کی ووٹ ڈالنے کی شرح 75 فیصد سے تجاوز کر جانے کی صورت میں عرب امیدواروں کی ووٹ حاصل کرنے کی شرح مزید کم ہو جائے گی۔

جوائنٹ لسٹ میں اختلافات کیا ہیں؟

عرب اتحاد ’’جوائنٹ لسٹ‘‘ میں اختلافات کا آغاز اسی وقت شروع ہو گیا تھا جب گزشتہ الیکشن کے بعد صدر بننے کی مشاورت کے دوران اتحاد میں شامل ’’نیشنل ڈیموکریٹک گیدرنگ‘‘ نے مطالبہ کر دیا تھا کہ اتحاد میں شامل کوئی جماعت کسی صدارتی امیدوار کو نامزد کرنے کی تائید نہ کرے۔

اختلافات تو اس وقت ہی بڑھ گئے تھے جب اتحاد کو الیکشن کے بعد جن نشستوں یا عہدوں کے ملنے کا یقین ہوا تو ان عہدوں کی تقسیم پر ہی جماعتوں نے لڑائی شروع کر دی تھی۔ یاد رہے الیکشن سے قبل کے ہونے والے رائے عامہ کے جائزوں میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ جوائنٹ لسٹ الیکشن میں 6 نشستیں جیت جائے گی۔

جمعرات کی شام ’’ڈیموکریٹک فرنٹ فار پیس اینڈ ایکویلیٹی‘‘ اور ’’عرب موومنٹ فار چینج‘‘ نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ یہ دونوں جماعتیں ملکر الیکشن میں حصہ لیں گی، ان کے ساتھ یہودی ترقی پسند قوتیں بھی شامل ہوں گی۔ اس بیان میں دونوں جماعتوں نے جوائنٹ لسٹ سے اپنے اختلافات کی وجوہات بھی بیان کیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم یائر لپید
اسرائیلی وزیر اعظم یائر لپید

بیان میں کہا گیا کہ ڈیموکریٹک فرنٹ اور عرب موومنٹ نے اپنے مشترکہ مفاد کو بچاتے ہوئے گذشتہ کل بہت سی باتوں پر پسپائی اختیار کر لی تھی اور مجوزہ معاہدہ میں جیت صرف ’’نیشنل ڈیموکریٹک گیدرنگ‘‘ کی تھی کیونکہ اس کی نمائندگی کو دو گنا کرنے کی ضمانت دی گئی تھی۔

اس سب کے باوجود ہم اس وقت شدید حیران ہو گئے کہ بغیر کسی تمہید کے اور ناقابل فہم طور پر اندرونی دباؤ کے تحت آخری لمحات میں معاہدوں کی خلاف ورزی کی گئی اور اتحاد کی صدارت کا مطالبہ کر دیا گیا۔ نقب کی کنیسٹ میں موجودگی بڑھانے کیلئے طے کی گئی گردش کے فارمولے کو مسترد کر دیا گیا حالانکہ یہ کوئی متعصبانہ کوٹے کا معاملہ نہیں تھا۔

دونوں جماعتوں نے ’’نیشنل ڈیموکریٹک گیدرنگ‘‘ پر الزام لگایا کہ یہ جماعت اتحادی پارٹیوں کے درمیان تنازع پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں گروپ بندی کے ساتھ مشترکہ اقدامات نے ثابت کر دیا کہ یہ اختلافات مصنوعی ہیں جنہیں تنگ گروہی مفادات کے تحت بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔

ان دونوں جماعتوں کے اس اتحاد میں 11 امیدوار شامل ہیں جن میں ایمن عودہ، احمد طیبی، عائدا توما سلیمان، عوفر کسیف، یوسف العطاونہ، سمیر بن سعید، غالب سیف، اعتماد قعدان، نہایہ وشاحی، احمد شقیر اور نوعا لیفی شامل ہیں۔

یونائیٹڈ عرب لسٹ

یونائیٹڈ عرب لسٹ، جو یائر لیپڈ کی قیادت میں حکومتی اتحاد میں شامل ہے، نے اپنی پرانی حیثیت برقرار رکھی ہے۔ اس جماعت نے منصور عباس کی سربراہی میں گذشتہ انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ اس جماعت کے امیدواروں میں منصور عباس کے بعد نقب سے ولید طہ ہیں۔

ولید الحواشلہ نے کنیسٹ کے رکن سعید الخرومی کی جگہ لی جو حکمران اتحاد میں اپنی فہرست میں شمولیت کے کچھ عرصے بعد انتقال کر گئے تھے۔ چوتھے نمبر پر ایمان یاسین خطیب ہیں۔ پانچویں نمبر پر یاسر حجیرات ہیں۔ وہ الجلیل کے علاقہ سے فلسطینی بدوؤں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

نیتن یاہو کے لیے کوششیں

یکم نومبر کو ہونے والا انتخابی معرکہ بھی گزشتہ الیکشن کی طرح نیتن یاہو کے گرد گھومتا نظر آرہا ہے ۔ تجربہ کار لیکوڈ رہنما دائیں بازو اور انتہا پسند مذہبی جماعتوں کے بلاک کی سربراہی کر رہے ہیں۔ نتین یاھو دائیں اور بائیں بازو کی جماعتوں کو ملا کر تشیکل دئیے گئے حکمران بلاک کے خلاف الیکشن لڑ رہے۔

اب تک کے رائے عامہ کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ 120 نشستوں والی کنیسٹ میں کوئی بھی کیمپ حتمی اکثریت حاصل نہیں کر سکے گا جس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ یائر لیپڈ نگران حکومت کے سربراہ کے طور پر اپنے عہدے پر برقرار رہیں اور اسرائیل پھر نئے الیکشن طرف چل پڑے۔

اس صورتحال میں عرب جماعتیں بڑی کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہیں گی۔ تاہم نیتن یاہو کی حامی عرب جماعتیں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 کی اکثریت میں شامل ہو سکتی اور سابق وزیر اعظم کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کو یقینی بنا سکتی ہیں۔

دایاں بازو متحد اور بایاں منقسم

دائیں بازو کی جماعتیں زیادہ مربوط اور ٹھوس نظر آتی ہیں، یہ جماعتیں انتہا پسندی کی طرف مائل ہیں اور سیاسی نقشے کے بالکل دائیں جانب واقع ہیں۔

دائیں بازو کی جماعتوں کی یہ ہم آہنگی نیتن یاھو کی ذاتی مداخلت کی بدولت حاصل ہوئی۔ نیتن یاھو نے ان جماعتوں کو اکٹھے الیکشن لڑنے پر رضامند کیا ہے۔

اس طرح مغربی نسل کی مذہبی یہودی جماعتوں کے اتحاد’’یونائیٹڈ توراہ جوڈائزم لسٹ‘‘ نے بھی دائیں بازو کی جماعتوں کے ٹوٹنے کے خطرے کو کم کیا اور ان سب جماعتوں کو اکٹھے الیکشن لڑنے پر متحد کیا۔

یہی وجہ سے نیتن یاھو نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں