فلسطینی مواد کوفروغ دینے کے لیے نوجوانوں کی مہم "ہم فلسطینی بولتے ہیں" کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چھ ستمبر کو فلسطینی صحافیہ میسون عزام نے انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر "ہم فلسطینی بات کرتے ہیں" مہم کا آغاز کیا، جس کا مقصد فلسطینی ورثے، انسانی وسائل اور انسانی حقوق کے مواد کو تقویت دینا ہے۔نوجوانوں کی اس رضا کارانہ مہم میں میسون اکیلی نہیں بلکہ اس کے ساتھ اس مشن میں رسیل عمرو، رغد مراد، اور ہیبا الحمارنہ بھی شامل ہیں۔

میسون عزام نے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس کے آغاز کے وقت اس اقدام کی حمایت کی اور ایک طرف محبت اور تعاون کے جذبے کو فروغ دینے اور دوسری طرف فلسطینی بیانیے کو مستحکم کرنے کے لیے رضاکارانہ ٹیم ورک کی اہمیت پر زور دیا۔

جہاں تک مواد کا تعلق ہےتو ان کا کہنا تھا کہ یہ پلیٹ فارم مختلف فلسطینی چہروں کی میزبانی کرے گا، جن میں سے ہر ایک اپنی خصوصیت کے ساتھ اس حقیقت کے بارے میں بات کرے گا کہ فلسطینی وطن کے اندر رہتے ہیں جب کہ بڑی تعداد ایسی ہے جو اس وقت پناہ گزین کے طور پر دوسرے ملکوں میں رہ رہی ہے۔

مُہم میں شامل رسیل نے کہا کہ اس اقدام میں شامل ہونا فلسطینی بیانیے کی حمایت کی توسیع ہے، جس پر انھوں نے ایکسپو 2020 میں فلسطین پویلین میں کام کیا تھا۔ انہوں نے فلسطینی ثقافت کو پھیلانے کی اہمیت کا تجربہ ایک ناول کی شکل میں پیش کیا تھا۔

رغد نے کہا کہ اپنے مصروف کیریئر کے باوجود وہ محسوس کرتی ہیں کہ فلسطینی بیانیے کی حمایت کے لیے وقت دینا ان کا اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے۔

ہیبا نے رغد کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئےاس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے انسانی کام دبئی کی امریکن یونیورسٹی میں اس کی سرگرمیوں کو بڑھا دے گا۔اس سے یونیورسٹی میں اس کی بہ طورطلبہ یونین کی صدر کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں