اگست: سعودیہ چین کو تیل فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک

بیجنگ کی روسی خام تیل کی درآمدات میں بھی 28 فیصد اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب اگست کے مہینے میں چین کو خام تیل فراہم کرنے والوں میں سب سے آگے آگیا، وہ چار ماہ میں پہلی مرتبہ چین کا سب سے بڑا آئل سپلائر بنا۔ چینی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے مطابق چین کی جانب سے روسی خام تیل کی درآمدات بھی اگست میں 28 فیصد بڑھ گئیں۔

سعودی عرب سے چین کی درآمدات گزشتہ ماہ بڑھ کر 8.475 ملین ٹن یا 1.99 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئیں۔ یہ مقدار گزشتہ سال کے اگست کی درآمدات سے 5 فیصد زیادہ ہے۔

خیال رہے چین اس وقت روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی روسی خام تیل کی درآمدات 8.342 ملین ٹن یا 1.96 ملین بیرل یومیہ ہے۔ اس سپلائی میں مشرقی سائبیریا پیسیفک اوقیانوس پائپ لائن سے سپلائی اور یورپ اور مشرق بعید میں روسی بندرگاہوں سے ترسیل بھی شامل ہے۔ چین کی مئی میں روس سے خام تیل کی درآمد تقریبا 2 ملین بیرل یومیہ رہی۔

واضح رہے آزاد چینی ریفائنریز نے کم قیمت روسی تیل کی خریداری کو بڑھا دیا ہے جس سے حریفوں مغربی افریقہ اور برازیل کی ترسیل کم ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے چین کی روس سے خام تیل کی درآمدات بھی اضافہ ہوگیا۔

تاہم دوسری طرف سعودی عرب سالانہ بنیادوں پر چین کو خام تیل کا سب سے بڑا سپلائر برقرار ہے۔ سعودیہ نے جنوری سے اگست کے دوران 58.31 ملین ٹن تیل چین کو فراہم کیا ہے یہ گزشتہ سال سے 0.3 فیصد کم ہے۔ اسی مدت میں روس نے چین کو 55.79 ملین ٹن تیل کی ترسیل کی ۔ اس طرح سعودیہ روس کے مقابلے میں چین کا قدرے بڑا سپلائر ثابت ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں