سعودی عرب میں ہراسانی کی سزا پانچ سال اورتین لاکھ ریال جرمانہ مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

کل پیر کے روز سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوشن نے ہراساں کرنے کے متعلق سزا کی تجید کرتے ہوئے ہراسانی کے مرتکب شخص کو پانچ سال قید اور تین لاکھ ریال جرمانہ کی سزا سنائی ہے۔

ٹویٹر پر پبلک پراسیکیوشن کے آفیشل اکاؤنٹ نے کہا ہے کہ ہراساں کرنے کے جرم کی سزا 5 سال قید اور 300,000 ریال جرمانہ ہوسکتا ہے۔

پبلک پراسیکیوشن نے ہراساں کرنے کے جرم کی تعریف واضح کی ہے کہ اور کہا ہے کہ ہر بیان، فعل یا اشارہ جنسی مفہوم کے ساتھ، جو کسی شخص کی طرف سے کسی دوسرے شخص کی طرف جاری کیا جاتا ہے، جو اس کے جسم یا عزت کو چھوتا ہے، یا کسی بھی طرح سے، جس میں جدید ٹیکنالوجی بھی شامل ہے کسی کو ہراساں کیا جائے ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے۔

بیان میں مزید کہا ہے کہ "کوئی بھی شخص جو کسی دوسرے شخص کوہراسانی پر اکساتا ہے، اس سے اتفاق کرتا ہے، یا کسی بھی طرح سے اس کی مدد کرتا ہے، اسے ہراساں کرنے کے جرم میں سزا دی جائے گی۔ جرم کے لیے مقرر کردہ سزا اور جو بھی اس جرم کا ارتکاب کرنے کی کوشش کرے گا اسے اس کے لیے مقرر کردہ نصف سزا دی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں